حماس کی طرف سےامدادی سامان روکااورضبط نہیں کیاجارہا:امریکی خصوصی نمائندے کا اطمینان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے خصوصی نمائندے ڈیوڈ سٹیرفیلڈ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ حماس نے غزہ پہنچنے والے امدادی سامان کو روکا ہے نہ روکنے کی کوشش کی اور نہ امدادی سامان ضبط کیا ہے۔ امریکی خصوصی نمائندے نے اطیمنان کا اظہار اردن میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا ہے۔

واضح رہے غزہ کی شہری آبادی پر اسرائیل کی بدترین بمباری کے نتیجے میں لاکھوں بے گھر ہونےوالے فلسطینیوں اور ہزاروں زخمیوں کے لیے پانی اور بجلی کا نظام تک تباہ ہوچکا اور کھانے کی اشیا ، ادویہ اور طبی آلات تک ختم ہو گئے تو ایک ملبے کا ڈھیر بنے اس غزہ شہر میں قحط کا ماحول بننے لگا ۔ تب جا کر عالمی برادری کو اسرائیل نے انتہائی محدود امدادی سامان غزہ پہنچانے کی اجازت دی ۔

لیکن اس کے باوجود اسرائیل نے یہ شور مچایا کہ سامان حماس تک نہ پہنچ جائے، جبکہ عالمی سطح پر اسرائیل کی انتہا پسندی کی حد تک حامی قوتوں نے شک و شبہ ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ یہ امدادی سامان حماس روک رہی اور ضبط کر رہی ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے اس بات کی اپنی رپورٹ میں تردید کی ہے۔

اسرائیل حماس جنگ کے سلسلے میں 9 نومبر کو امکانی طور پر فرانس کی میزبانی میں کرائی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس کے ایجنڈے پر ایک اہم نکتہ امدادی سامان حماس تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

امریکی خصوصی نمائندے نے رپورٹرز سے گفتگو میں یہ بھی یقین دلا یا ہے کہ 'ہمیں ایسی کوئی رپورٹ امداد تقسیم کرنے والے اداروں سے موصول نہیں ہوئی ہے جس سے امدادی سامان کے حماس کے زیرتصرف آنے کی کوئی شکایت کی گئی ہو۔ نہ ہی امریکی انتظامیہ کو ایسی اطلاعات بھجوائی گئی ہیں۔ '

اسرائیلی حکم کے مطابق اور بمباری کے نتیجے میں اب تک شمالی غزہ سے جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی کر جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 800000 بتائی ہے۔ امریکی نمائندے کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے چار لاکھ تک فلسطینی ابھی شمالی غزہ میں باقی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی خواہشات کے حوالے سے عالمی طاقتوں کی آنےوالے دنوں میں کوشش ہو گی کہ حماس اور اس کے حامی غزہ سے بالکل ہی غیر متعلق کر کے غزہ کا مستقبل طے کیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن کے دوسرے دورہء مشرق وسطیٰ کے دوران بھی ایسے اشارے سامنے آئے ہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں