غزہ جنگ میں سویلین کی اموات میں کمی کے لیے امریکا کا تین نکاتی فارمولا کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ ماہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے امریکا ڈٹ کر تل ابیب کے ساتھ کھڑا ہے اور اسرائیل کے "حق دفاع " پر زور دیتا ہے‘‘

تاہم گنجان آباد پٹی میں فلسطینی شہریوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک اموات کی تعداد 9,500 سے زیادہ ہوگئی۔ ان میں زیادہ تر بچے ہیں۔ بڑھتی اموات کی وجہ واشنگٹن کو اسرائیل جنگ کے حوالے سے اپنا لہجہ بدلنے پر آمادہ کیا۔

جمعہ کو اسرائیل کے دورے کے دوران سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلینکن نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کو "کم" کریں۔

امریکی وزیر نے وضاحت کی کہ انہوں نے "ٹھوس اقدامات" پر تبادلہ خیال کیا جو شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے اٹھائے جا سکتے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی کا مںظر
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی کا مںظر

وہ اقدامات کیا ہیں؟

امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن نے تل ابیب کو تجویز دی تھی کہ وہ حماس کے ٹھکانوں پرحملہ کرتے وقت یا اس کے رہ نماؤں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی انٹیلی جنس معلومات کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹے بم استعمال کرے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی حکام نے اسرائیلیوں کو تجویز دی کہ وہ حملے شروع کرنے سے پہلے قیادت کے نیٹ ورکس کے بارے میں مزید انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرکے حماس کے رہ نماؤں کو کس طرح نشانہ بناسکتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی زمینی افواج کو شہری آبادی کو ان مراکز سے الگ کرنے کے لیے استعمال کریں جہاں حماس کے عسکریت پسند مرکوز ہیں۔

اس معاملے سے واقف اہلکاروں نے زور دے کر کہا کہ چھوٹے بم غزہ کے گنجان آباد شہری علاقوں کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔

’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق ایک سینیر فوجی اہلکار نے کہا کہ امریکا نے اب اسرائیل کو مزید چھوٹے بم بھیجنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

امریکا کو توقع ہے کہ اسرائیلی افواج اسے عام شہریوں کو لاحق خطرات کو کم کرنے کے لیے استعمال کریں گی۔

غزہ کی ایک تصویر
غزہ کی ایک تصویر

ڈرون اور سیٹلائٹ

امریکا نے غزہ سے انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کا حجم بھی بڑھا دیا ہے۔

امریکی ڈرون اب غزہ کی پٹی پر بار بار پرواز کر رہے ہیں، حماس اور دیگر گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد یا ان کے بارے میں معلومات تلاش کر رہے ہیں۔

نیز واشنگٹن نے امریکی فوجی سیٹلائٹس کو غزہ سیکٹر کی نگرانی کے لیے ری ڈائریکٹ کیا ہے۔

امریکا نے بحیرہ روم میں برقی جہازوں پر سوار ہوائی جہاز کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے تاکہ اضافی انٹیلی جنس جمع کرنے میں مدد ملے۔

مریکی سینیر اہلکار نے کہا کہ جنگ کے پہلے دو ہفتوں کے دوران اسرائیل کی طرف سے غزہ پر گرائے جانے والے ہتھیاروں میں سے تقریباً 90 فیصد سیٹلائٹ گائیڈڈ بم تھے جن کا وزن 1000 سے 2000 پاؤنڈ کے درمیان تھا۔

اس کے علاوہ جنگ میں چھوٹے قطر کے بم تھے جن کا وزن 250 پاؤنڈ بتایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں