غزہ میں جنگ امن کے حصول میں دہائیوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے: اوباما

غیرجانبدار رہنا مشکل ہے، کیونکہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کے ساتھ فلسطینیوں کو اپنی آزاد ریاست قائم کرنے کا پورا پورا حق ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سابق امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی کو "ہم سب کے لیے اخلاقی حساب کتاب" قرار دیا۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کو اپنی فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران کی۔

اوباما نے ’اوباما فاؤنڈیشن‘ کے ڈیموکریسی فورم میں بات کرتے ہوئے تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل اور "قبضے" کے خاتمے پر زور دیا۔

انہوں کہا کہ "یہ سب کچھ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے دیرپا امن کے حصول میں دہائیوں کی ناکامی کی وجہ سے ہو رہا ہے" ۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ"اسرائیل کے لیے حقیقی سلامتی، اس کے وجود کے حق کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ قبضے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے لیےحق خود ارادیت کے ساتھ ایک قابل عمل ریاست کے قیام میں مضمر ہے‘‘۔

اوباما نے کہا کہ "اب میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس قتل عام کے دوران غیر جانبدار رہنا ناممکن ہے۔ امید محسوس کرنا مشکل ہے۔ غم زدہ خاندانوں اور ملبے سے لاشوں کے برآمد ہونے کی تصاویر ہم سب پر اخلاقی حساب کتاب کرنے پر مجبور ہیں"

اوباما نے اعتراف کیا کہ جنگ نے اوباما فاؤنڈیشن کے اندر اختلافات کو ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مسائل پر اپنے دکھ، غصہ، خوف اور اختلافات کو دور کرنا تھا۔ میں نے آپ کے ایک گروپ کے ساتھ اس مسئلے کے بارے میں بات چیت کی تھی اور آپ پرجوش تھے۔میں نے جو کچھ عوامی بیانات دیے تھے ان میں سے کچھ کے گرد مجھے دھکیل دیا تھا۔"

سابق صدر نے مزید کہا کہ "مسئلہ مختلف نتائج کی خواہش کا نہیں بلکہ اس راستے کے مختلف جائزوں کا ہے جس پر ہمیں اس کے حصول کے لیے عمل کرنا چاہیے"۔

حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف ایک بڑا حملہ کیا جس میں 1400 سے زیادہ اسرائیلی شہری مارے گئے۔

اس کے بعد سے اسرائیل غزہ میں 9,000 سے زیادہ فلسطینیوں کا قتل کیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی قابض فوج علاقے میں اپنی زمینی دراندازی جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکا باضابطہ طور پر جنگ بندی کی حمایت نہیں کرتا، کیونکہ صدر بائیڈن بارہا اسرائیل کے حماس کے خلاف اس کے دفاع کے حق پر زور دے چکے ہیں۔ بائیڈن نے حال ہی میں ترقی پسند گروہوں اور عالمی رہ نماؤں کے دباؤ کے بعد اپنا لہجہ تبدیل کر کے ایک انسانی "جنگ بندی" کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں