غزہ کی آبادی کی جبری نقل مکانی مسترد کرتے: فیصل بن فرحان، بلینکن سے ملاقات

سعودی وزیر خارجہ نے عمان میں اپنے امریکی ہم منصب سے عرب امریکن اجلاس کے موقع پر ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے اردن کے دارالحکومت عمان میں اپنے امریکی ہم منصب اینٹنی بلینکن سے عرب امریکی بیٹھک کے موقع پر ملاقات کی۔ دونوں نے غزہ اور اس کے ماحول میں فوجی کارروائیوں میں اضافے کو روکنے کی کوششوں کی حمایت کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انسانی بحران کو بڑھنے سے روکنے کے لیے انسانی اور طبی امداد متعارف کرانے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی وزیر خارجہ نے غزہ کے باشندوں کی جبری نقل مکانی کو سعودی عرب کی جانب سے واضح طور پر مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا سعودی عرب شہریوں کو کسی بھی طرح سے نشانہ بنانے یا ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والے بنیادی ڈھانچے اور اہم مفادات کو متاثر کرنے کی پرزور مذمت کرتا ہے۔

ملاقات میں خادم حرمین شریفین کے سفیر برائے اردن نائف السدیری، وزارت خارجہ برائے سیاسی امور کے انڈر سیکرٹری ڈاکٹر سعود الساطی، ڈائریکٹر جنرل نے بھی شرکت کی۔

یاد رہے سعودی عرب، مصر، اردن، امارات، قطر اور فلسطین کے وزرائے خارجہ نے ہفتہ کو عمان میں امریکی وزیر خارجہ بلینکن کے ساتھ اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے عرب کوششوں کے تناظر میں ایک رابطہ اجلاس منعقد کیا۔

ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بلینکن نے کہا کہ ہم نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کے حصول کے لیے کام جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، ہم نہیں چاہتے کہ یہ تنازع خطے کے دیگر محاذوں تک پھیل جائے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مختلف نقطہ نظر کے باوجود جنگ کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہم نے یرغمالیوں کو رہا کرنے اور شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو فلسطینی عوام یا ان کے مستقبل کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ واشنگٹن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

بلنکن نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر عارضی جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے کام پر زور دیا۔ بلینکن نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کے متعلق بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے آخر میں یہ بھی کہا "امریکہ کا خیال ہے کہ بحران کے حل کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں