خبردار اسرائیل پر حملے سے باز رہیں: واشنگٹن کا ایران اور حزب اللہ کو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی لڑائی کی توسیع اوراس کی چنگاری علاقائی جنگ میں پھیلنے کے بارے میں بڑھتے ہوئے بین الاقوامی خدشات کے تناظرمیں امریکا نے ایران اور اس کے پراکسیوں کو واضح اور فیصلہ کن پیغام بھیجا ہے۔

امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے تُرکیہ سمیت علاقائی شراکت داروں کے ذریعے تہران اور حزب اللہ دونوں کو پیغامات بھیجے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ اگر اسرائیل کے خلاف حملہ ہوتا ہے تو امریکا اسے روکنےکے لیے فوجی مداخلت کرے گا۔

فوجی تیاری

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حکام نے وضاحت کی کہ واشنگٹن نے واضح طور پر یہ پیغامات پہنچائے ہیں جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تل ابیب پر حملے کی صورت میں حزب اللہ اور ایران دونوں کے خلاف فوجی مداخلت کے لیے تیار ہے۔

یہ انتباہات اس وقت سامنے آئے جب بحیرہ روم خطہ میں امریکی فوجی اڈوں کی حفاظت اور کسی بھی ہنگامی مداخلت کی تیاری کے لیے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں اور جوہری آبدوزوں سے بھر دیا گیا ہے۔

یہ پیغامات امریکی حکام کی طرف سے عوامی اور باضابطہ طور پر جاری کیے گئے بہت سے سیاسی انتباہات کے تسلسل کا حصہ ہیں۔

تازہ ترین تنبیہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے دی ہےجنہوں نے کل اسرائیل اور پھر مغربی کنارے اور عراق کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایران کے وفاداروں کے لیے انتباہ جاری کیا ہے۔

تہران نے ایک سے زیادہ بار خبردار کیا ہے کہ غزہ میں آگ اور جنگ کی چنگاری امریکا اور خطے میں اس کے اڈوں اور مفادات تک پہنچے گی۔

پچھلے ہفتوں کے دوران پاسداران انقلاب نے بار بار دھمکی دی ہے کہ وہ امریکا کے مفادات پر حملہ کرے گا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ "مزاحمت کا محور" امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سےعلاقائی سطح پر جنگ کے پھیلاؤ کے بارے میں بین الاقوامی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کی شدت اور ان کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

شام اور عراق میں امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں پر 17 اکتوبر سے کم از کم 14 حملے ہو چکے ہیں۔ پینٹاگان کے اعلان کردہ بیان کے مطابق 21 فوجی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں