فلسطین اسرائیل تنازع

خطے میں کشیدگی بڑھنے پر امریکا نے شرقِ اوسط میں جوہری آبدوز بھیج دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فوج نے سوشل میڈیا پر ایک نادر اعلان میں کہا کہ امریکی بحریہ نے ایک جوہری آبدوز شرقِ اوسط کے لیے روانہ کر دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اتوار کو دیر گئے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا، "5 نومبر 2023 کو اوہائیو کلاس کی ایک آبدوز امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذمہ داری کے علاقے (جہاں کوئی فوج جنگی آپریشن کے لیے موجود ہو) میں پہنچی۔"

شرقِ اوسط میں جوہری آبدوز کی پوزیشن کے بارے میں غیر معمولی عوامی اعلان کو بہت سے لوگ ایک ایسے ڈیٹرنس پیغام کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے ایران جیسے علاقائی حریفوں کو بھیجا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں آبدوز کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن امریکی بحریہ کے پاس چار اوہائیو کلاس گائیڈڈ میزائل آبدوزیں (ایس ایس جی این) ہیں۔ یہ سابقہ بیلسٹک میزائل آبدوزیں ہیں جنہیں فائر ٹوماہاک کروز میزائل چلانے کےلیے تبدیل کیا گیا تھا۔

سب میرین انڈسٹریل بیس کونسل کے مطابق ایٹمی طاقت سے چلنے والی حملہ آور آبدوزوں (ایس ایس این) کی طرح ایس ایس جی این بھی دشمن کے آبائی علاقے کے قریب طویل مدت تک کام کر سکتی ہے۔

وہ خفیہ طور پر سپیشل آپریشنز فورسز کو تعینات کر سکتی ہیں اور قریبی پوزیشنوں سے دشمن کے لیے حیرت اور صدمے کے عنصر کے ساتھ حملے کی کارروائیاں کر سکتی ہیں۔

حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے امریکہ نے دو طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں بھیجے ہیں۔ اوہائیو کلاس آبدوز علاقے میں ان امریکی فوجی اثاثوں میں شامل ہو جائے گی۔

اسرائیل پر 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں 1,400 اسرائیلی ہلاک ہو گئے اور 200 سے زیادہ دیگر کو عسکریت پسند گروپ نے یرغمال بنا لیا تھا جس کے جواب میں اسرائیل غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری کر رہا ہے۔

اس کے بعد سے اسرائیل نے تقریباً 9500 فلسطینیوں کو مار ڈالا ہے جن میں سے نصف سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں