سعودی عرب نے غیر ملکی لاء فرموں کو کام کرنے کی اجازت دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی حکومت نے کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے قانونی منظر نامے کو وسیع کرتے ہوئے پندرہ غیر ملکی لاء فرموں کو لائسنس جاری کردیا ہے۔

مملکت کی وزارت انصاف کے مطابق اس حوالے سے 15 غیر ملکی قانونی فرموں کو لائسنس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ مزید 15 اسی درخواستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس عمل سے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے اور اعلیٰ کاروباری معیارات کو برقرار رکھنے کی راہ ہموار ہو گی۔

مملکت نے یہ فیصلہ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار کرنے والے بین الاقوامی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بعد کیا ہے۔

وزارت انصاف کے مطابق امریکہ اور برطانیہ کی متعدد لاء کمپنیوں کو مملکت میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں معاون بننے کے لیے لائسنس دیے گئے ہیں۔

وزارت انصاف میں میڈیا اور ادارہ جاتی مواصلات کے جنرل سپروائزر ماجد الخمیس نے اس حوالے سے عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی قانونی فرموں کے لیے مقامی مارکیٹ میں قدم جمانے کے لیے ٹھوس اہمیت کے اقدام اٹھائے ہیں۔ یہ عمل بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کے سعودی ویژن 2030 کے تحت شاندار مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سازگار ماحول بنانے کے لیے ازحد ضروری تھے۔

الخمیس نے مزید کہا کہ مملکت کی طرف سے نافذ کردہ نئی قانون سازی، جیسا کہ سول (پرسنل) سٹیٹس لاء، شواہد کا قانون، اور سول لین دین کا قانون کے نفاذ سے حقوق کے تحفظ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، اور اقتصادی خوشحالی میں معاونت ملے گا۔

لاء کے شعبے سے منسلک وکیل مسعد العنازی نے کہا مملکت کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ قدم علم کی ترقی اور سعودی قانونی فرموں اور غیر ملکی کمپنیوں کے درمیان تجربات کے تبادلے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب پیش رفت قانون کی عملداری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے مملکت کے مقصد کی عکاسی کرتا ہے جو کاروبار اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو درپیش چیلنجوں سے نبٹنے میں کردا ادا کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں