قبرصی صدر کی بلینکن سے ملاقات، غزہ کے لیے سمندری امدادی راہداری کی تجویز پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قبرص میں حکام نے اعلان کیا کہ امریکی وزیر خارجہ بلینکن اتوار کو ان کے ملک میں مختصر دورانیہ کے لیے رکے انہوں نے فلسطینی غزہ کی پٹی کے لیے میری ٹائم امدادی گزرگاہ کے قیام کے لیے قبرص کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔

بلینکن ترکیہ جاتے ہوئے بغیر پیشگی اعلان کے لارناکا ایئرپورٹ پر اتر گئے۔ بلنکن نے اپنے طیارے میں قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس سے ملاقات کی۔ اپنی طرف سے قبرصی حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ اس ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ قبرص کی جانب سے غزہ میں شہریوں تک انسانی امداد بھیجنے کے لیے ایک مسلسل بنیاد پر ایک طرفہ سمندری راہداری کے قیام کے حوالے سے تجویز پیش کی گئی۔

یاد رہے کرسٹوڈولائڈس نے پہلے دن کہا تھا کہ امداد کی فراہمی کا راستہ تلاش کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ بحری جہاز غزہ کے سمندری علاقے تک نہیں جا سکتے۔ اس لیے ہم حماس سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ سے بات کر رہے ہیں کہ وہ امدادی سامان کا انتظام سنبھالے۔

قبرص اس راہداری کے قیام کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے پڑوسی ممالک اور یورپی یونین میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس راہداری کو صرف انسانی امداد بھیجنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ خیال رہے قبرص یورپی یونین کا مشرق وسطیٰ سے قریب ترین رکن ملک ہے۔

غزہ کی پٹی مسلسل بمباری اور محاصرے کی زد میں ہے اور اس میں مصر کے ساتھ رفح گزرگاہ کے علاوہ امداد کی ترسیل کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ رفح کراسنگ سے بہت کم امداد داخل ہوتی ہے۔ یہ امداد اس انسانی تباہی کے مطابق نہیں ہے جس کا غزہ کی پٹی کو سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں