فلسطین اسرائیل تنازع

ایرانی صدر رئیسی سعودی عرب میں 'او آئی سی' سربراہ کانفرنس سے خطاب کریں گے

غزہ پر مسلسل اسرائیلی بمباری کے دنوں میں یہ کانفرنس اہم ثابت ہو سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں طلب کی گئی اسلامی تعاون تنظیم [او آئی سی] کی سربراہ کانفرنس میں اسرائیل حماس جنگ اور غزہ میں تاریخ کی بد ترین تباہی کے علاوہ اب تک ہو چکی 10000 ہلاکتوں اور خطے پر مرتب ہونے والے اثرات پر بات کی جائے گی۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اگلے اتوار کو امکانی طور پر سعودی عرب میں غزہ کے بارے میں او آئی سی کے سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یہ بات کانفرنس کے منتظمین کے قریبی ذرائع سے سامنے آئی ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ سے خطے میں غیر معمولی صورت حال بن رہی ہے، اس دوران ان کی سعودی عرب آمد غیر معمولی ہو گی۔ خصوصاً رواں سال دوطرفہ سفارتی تعلقات کی بحالی اور دنیا کے تبدیل ہوتے حالات میں۔ سات سال کے سفارتی انقطاع کے بعد دوطرفہ سفارتی تعلقات کی بحالی اور دوطرفہ بہتری کے حالات میں بھی ایرانی صدر کا یہ پہلا دورہ ہو گا۔

دس ہزار سر سے زائد فلسطینیوں کی شہادتوں؛ جن میں بڑی تعداد فلسطینی عرب بچوں اور عورتوں کی شامل ہے؛ اور دنیا کے بہت سے ملک اسے فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دے رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے 57 ملکی اتحاد او آئی سی کی یہ سربراہ کانفرنس کافی جاندار ہو گی۔

خصوصاً جب اسرائیل کے ساتھ 'نارملائزیشن' کے لیے سعودی بات چیت کا سلسلہ معطل کرنے کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ اردن، بحرین اور ترکی نے اپنے سفارتی تعلقات کو احتجاجاً کم کر دیا اور دنیا کے کئی دوسرے ملکوں نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔

اقوام متحدہ میں اس بارے میں کئی قرار دادیں زیر بحث آ چکی ہیں اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس سمیت کئی عالمی یشخصیات اسرائیل سے جبگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر کے بڑے شہروں میں سخت عوامی رد عمل بھی سامنے آ رہا ہے۔

'او آئی سی' کے رکن ملکوں کی طرف سے بھی بار بار مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کرے۔ لیکن اسرائیل غزہ کی موجودہ سیاسی، حکومتی اور ملکیتی صورت حال کو بتدریج بدلنے کے لیے مسلسل بمباری کر کے فلسطینیوں کو نقل مکانی یا مرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ایرانی صدر کے درمیان 12 اکتوبر کو بھی غزہ کی صورت حال پر ٹیلی فونک تبادلہ خیال ہو چکا ہے۔ اس فونک رابطے کے دوران دونوں رہنماوں نے 'فلسطین کاز ' کی حمایت میں آواز بلند کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں