سعودی خواتین کا مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی کامیابیوں میں اہم کردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی ہیومن رائٹس کمیشن کی سربراہ ڈاکٹر ھلا التویجری نے کہا ہے کہ’سعودی عرب خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے قابل قدر کام کررہا ہے‘۔
انہوں نے سعودی قیادت کی جانب سے مملکت میں خواتین کی سپورٹ کی تعریف کی جس کی وجہ سے سعودی خواتین نے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی کامیابیوں میں اپنا کردار ادا کیا۔

ایس پی اے کے مطابق ڈاکٹر ھلا التویجری نے منگل کو جدہ میں اسلام میں خواتین سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلم خواتین کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے میں اسلامی اقدار کا کردار اہما ہے‘۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور سعودی عرب کے زیر اہتمام ”اسلام میں خواتین: حیثیت اور انہیں بااختیاربنانے“ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس میں انسانی حقوق اور خواتین کو بااختیار بنانے بارے وزیر اعظم کی معاون خصوصی مشعال حسین ملک پاکستانی وفد کی قیادت کر رہی ہیں۔

کانفرنس میں ان کے ہمراہ چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن نیلوفر بختیار اور او آئی سی میں پاکستان کے مستقل نمائندہ فواد شیر بھی شریک ہیں۔ کانفرنس میں سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر بھی بطور کانفرنس پینلسٹ حصہ لے رہی ہیں۔

انہوں نے سعودی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اہم اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ’ سعودی عرب نے مختلف شعبوں میں قانونی اور انتظامی اصلاحات کی ہیں جن سے خواتین کے حقوق کو تحفظ اور انہیں اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کے لیے قانونی بنیادیں حاصل ہوئی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’2017 سے 2022 تک لیبر مارکیٹ میں خواتین کا حصہ 21.2 فیصد سے بڑھ کر 34.7 فیصد تک پہنچ گیا۔ اقتصادی سرگرمیوں میں خواتین کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 37 فیصد تک پہنچ گیا‘’۔ ’سول خدمات میں سعودی خواتین کا حصہ 2022 کی تیسری سہ ماہی کے آخر تک 42 فیصد ہو گیا۔ مجلس شوری میں خواتین کا تناسب 20 فیصد ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا’ انتظامی عہدوں پر بھی خواتین آگے ہیں۔ 2017 میں ان کا تناسب 28.6 فیصد تھا۔ 2022 میں 41.1 فیصد ہوگیا۔ چھوٹے اور درمیانے سائز کے اداروں میں خواتین کا حصہ 2017 میں 22.5 فیصد تھا 2022 میں 45 فیصد تک پہنچ گیا‘۔

’مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کا تناسب 2017 میں سات فیصد تھا۔ 2022 میں 30.5 فیصد ہو گیا۔ کاروباری رجسٹریشن کے حوالے سے سعودی خواتین کاحصہ چالیس فیصد ہو گیا ہے‘۔

ڈاکٹر ھلا التویجری نے بتایا کہ ’عدالتی، سکیورٹی اور عسکری عہدے بھی خواتین کے لیے کھل گئے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ مسلم خواتین کو اسلام کے عطا کردہ حقوق استعمال کرنے میں متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اسلامو فوبیا اور نفرت کے بیانیے کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں‘۔

سعودی ہیومن رائٹس کمیشن کی سربراہ نے کہا’ فلسطینی خواتین خصوصا غزہ پٹی میں صبر و تحمل اور آزادی کی جدوجہد کی زندگی گزار رہی ہیں‘۔ ’انہیں وہاں قابض اسرائیلی حکام کی جارحانہ جنگ کی وجہ سے غیر انسانی حالات کا سامنا ہے اسرائیلی جارحیت سے سب سے زیادہ متاثر خواتین، بچے اور بوڑھے ہو رہے ہیں‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں