سنگاپور: اسرائیل جنگ کی تصاویر یا کسی دوسرے ملک کا پرچم لہرانے پر پابندی لگ گئی

شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی پارلیمنٹ میں متفقہ مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سنگاپور نے اسرائیل حماس جنگ کے حوالے سے ایسے کتبے اٹھانے پر پابندی لگا دی ہے جو جنگ سے متعلق ہوں یا جن پر اس جنگ سے متعلق کوئی تصویر یا علامت ظاہر کی گئی ہو۔ البتہ سر کارسے پہلے اجازت حاصل کی ہو تو پھر پابندی کی خلاف ورزی نہیں مانی جائے گی۔

لیکن پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں چھ ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی یا 500 سنگاپوری ڈالر جرمانہ کیا جا سکے گا۔ جرمانہ اور سزائے قید دونوں بھی کی جا سکتی ہیں۔

وزارت برائے امور داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ایک اس قانون کا اطلاق تمام غیر ملکی پرچموں اور بینروں پر بھی ہو گی۔وزارت داخلہ کے مطابق اسرائیل حماس جنگ کا معاملہ مشتعل کرنے والا ہے۔ اس کی وجہ سے قومی امن متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ پابندی لگانا ضروری تھا۔

وزارت نے بیان میں کہا ہے 'دہشت گردی کی حمایت اور فروغ کی کوشش کرنا اور اس مقصد کے لیے کوئی'ڈسپلے' کرنا یا لوگوز' اٹھانا غیر قانونی ہو گا۔ اسی طرح حماس اور القسام بریگیڈ کا نام بھی کسی بینر وغیرہ میں نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب سنگاپور کی پارلیمان نے پیر کے روز متفقہ طور پر شہریوں پر تشدد کی مذمت کی اور تاہم یہ بھی قرار دیا کہ بیرونی لڑائی کو ہم اپنے ہاں آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں