انجلینا جولی کے والد کی بیٹی پر تنقید،غزہ میں بچوں کے قتل عام پر آواز اٹھانے پربرہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اداکار جون ووئٹ نے اپنی بیٹی اور مشہور اداکارہ انجلینا جولی پر غزہ میں فلسطینی بچوں کے قتل عام کی مخالفت کرنے پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جون ووئٹ کا کہنا ہے کہ غزہ میں بچوں کے قتل عام سے متعلق انجلینا جولی کا بیان جھوٹ پر مبنی ہے۔

جولی نے 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے گئے حملوں پر اسرائیلی فوج کے ردعمل کی شدید مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں اب تک 10 ہزار سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

"میں بہت مایوس ہوں"

برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق لیکن انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کلپ میں 84 سالہ ووئٹ نے اپنی بیٹی جولی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "میں بہت مایوس ہوں"۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی سابق خصوصی مندوب جولی نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر بچوں، خواتین اور خاندانوں پر بمباری کر رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں خوراک، ادویات اور انسانی امداد سے محروم کر رہا ہے‘‘۔

ووئٹ نے اپنی بیٹی انجلینا جولی پر زور دیا کہ وہ جنگ میں اسرائیل کے کردار کے بارے میں اپنی رائے پر نظرثانی کریں۔

باپ اور بیٹی کے درمیان کشیدہ رشتہ

مبینہ طور پر جولی 2000ء کی دہائی کے اوائل میں اپنے والد سے الگ تھلگ ہیں۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی ذہنی صحت اور بلی باب تھورنٹن سے اس کی شادی کے ٹوٹنے کے بارے میں عوامی تبصروں کے بعد قانونی طور پر اپنا نام تبدیل کر دیا۔

اداکار جون ووئٹ
اداکار جون ووئٹ

باپ اور بیٹی نے بالآخر 2010 میں صلح کر لی تھی جس کے بعد ووئٹ اپنے چھ بچوں سے ملنے کے قابل ہو گئے جب بریڈ پٹ نے ان کے درمیان ثالثی میں مدد کی۔

لیکن مبینہ طور پر جولی نے پٹ سے طلاق کے بعد اپنے والد سے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔

اپنی بیٹی پر تنقید کرنے والے ووئٹ کے تبصروں کو اب تک 80,000 سے زیادہ لائکس مل چکے ہیں۔ جولی کی جانب سے انسٹاگرام پر غزہ پر اسرائیل کی بمباری کی مذمت کرنے والی پوسٹس کا ایک سلسلہ سامنے آیا ہے جس پر عوامی حلقوں میں بھرپور رد عمل سامنے آیا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں