فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی حملوں کے تسلسل سے غزہ میں دائمی امراض میں مبتلا افراد کی مشکلات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے ’مقاصد ‘ہسپتال کی ایک نرس تحریرعزم گزشتہ 16 سال سے غزہ سے یہاں علاج کی غرض سے داخل کئے گئے شدید بیمار فلسطینی مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف عمل ہیں۔ تاہم گذشتہ ماہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب یہ سلسلہ رک گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، عام حالات میں غزہ سے روزانہ تقریباً 100 مریض صحت کے پیچیدہ مسائل جیسے کینسر کے علاج اوراوپن ہارٹ سرجری کے لیے ، مشرقی بیت المقدس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے، اسرائیل اور دیگر ممالک میں لائے جاتے ہیں۔

اس سلسلہ کے سات اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ اور اسرائیل کی طرف سے غزہ کے مکمل محاصرہ کے نتیجے میں بند ہو ہونے کے بعد تحریر اور اس کے ساتھی یہاں سے علاج کروانے والئے اپنے مریضوں سے فیس بک سمیت مختلف ذرائع سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہم نے ایک پوسٹ دیکھی جس میں بتایا گیا تھا کہ یہاں علاج سے مستفید ہونے والاایک بچہ اسرائیلی فضائی حملوں میں مارا گیا ہے۔ یہ مریض صرف ایک ہفتہ پہلے ہی اس ہسپتال میں زیر علاج تھا۔ اس کی عمر صرف چھ سال تھی۔ تحریر نے ایک انٹرویو میں رائٹرز کو بتایا کہ وہ اس پوسٹ میں شامل تصویر کو کبھی بھول نہیں سکتیں۔

دائمی امراض کے شکار مریضوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت بات پر زور دے رہا ہے کہ ایسے افراد کو علاج کے لیے غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ واضح رہے کہ مصر، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک نے ان مریضوں کو علاج معالجہ کی فراہمی کی پیشکش کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ جنگ سے پہلے، ہر سال تقریباً بیس ہزار مریض کو علاج کی غرض سے غزہ کی پٹی چھوڑنے کے لیے اسرائیل سے اجازت درکار ہوتی ہے۔ ان میں سے تقریباً ایک تہائی بچے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے 2022 میں ان میں سے تقریباً 63 فیصد طبی درخواستوں کو منظور کیا تھا۔

غزہ کی پٹی میں موجود صحت کی سہولیات اسرائیل کی 16 سالہ سے جاری ناکہ بندی اور متعدد لڑائیوں کے باعث پہلے ہی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں ۔

مقاصد ہسپتال کے سپروائزر اسامہ قدومی نے کہا کہ پچھلی جنگوں میں غزہ سے نکلنے والی کراسنگ ایک یا دو دن کے لیے بند ہو تی تھیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب نقل وحرکت پر اتنی جامع اور طویل پابندی لگائی گئی ہے۔

جتنا زیادہ علاج کے لیے انتظار کرنا پڑے گا اتنا ہی خدشہ ہے کہ مریضوں کی حالت بگڑتی جائے گی ۔ بہت سے لوگ صرف اس وجہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے کہ ان کے پاس علاج کے ذرائع تک رسائی نہیں تھی۔

اقوام متحدہ کے اداروں کے اعداد وشمار کے مطابق، غزہ میں اس وقت کینسر اور ذیابیطس سمیت 350,000 مریض دائمی امراض کا شکار ہیں جبکہ 50,000 کے قریب حاملہ خواتین بھی فوری علاج کی مرہون منت ہیں۔

جنگ سے پہلے ان میں سے بہت سے مریض غزہ میں طبی دیکھ بھال حاصل کر سکتے تھے لیکن اب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مسلسل جنگ کے بعد علاقے کا پہلے سے نازک صحت کا نظام تباہی کے قریب ہے۔ اوپر سے فضائی حملوں سے متاثر، صدمے کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ، اور ادویات اور ایندھن کی سپلائی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ امداد ی سامان کی عدم فراہمی سے حالات بد تر ہورہے ہیں ۔ان حالات میں صرف 80 کے قریب مریضوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

غزہ اور مغربی کنارے کے لیے عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر رچرڈ پیپرکورن نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں کہ ہمیں ان 350,000 مریضوں کے بارے میں سوچنا ہو گا۔

ان کے علاج کے لیے کچھ طبی ضروریات خاص طور پر فوری درکار ہوتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ غزہ میں تقریباً 1,000 مریضوں کو زندہ کی ڈور سے جڑے رہنے کے لیے گردے کے ڈائیلاسز کی ضرورت رہتی ہے۔ لیکن وہاں حالات یہ رخ اختیار کرچکے ہیں کہ 80 فیصد مشینیں ان مقامی ہسپتالوں میں نصب ہیں جہاں سے اسرئیل کی جانب سے جبری انخلاء کے احکامات جاری کئے جا چکے ہیں۔

حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کے غزہ کا واحد کینسر ہسپتال بند ہو چکا ہے۔ اسرائیل کی فوج نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ شمالی غزہ سے فوری طور پر نکل جائیں، جہاں کئی ہسپتال واقع ہیں۔ اسرائیلی قابض فوج کا کہنا ہے کہ حماس نے اپنے کمانڈ سینٹرز کو ہسپتالوں کے نیچے واقع سرنگوں میں چھپا رکھا ہے۔ جس کی حماس سختی سے تردید کرتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جب سے لڑائی جاری ہے، غزہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 400 مریض جنگ سے پہلے علاج کے لیے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں پہنچ گئے تھے تاہم اب یہ یہاں پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔

غزہ میں سیلولر سروس اور بجلی کی عدم فراہمی کے باعث یہ مریض اور انکے تیمار دار اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کرنے شدید طور پر مشکلات کا شکار ہیں۔

ام طہٰ الفاراح ، جو 5 اکتوبر کو اپنی 6 سالہ پوتی ہالا کو ریڑھ کی ہڈی کی تیسری سرجری کے لیے مقاصد ہسپتال لائی تھیں نے بتایا کہ وہ شدید پریشان ہیں کیوں کہ وہ ہالا کے رشتہ سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں۔

ہالہ کی ولدہ کو اس کے ساتھ مشرقی بیت المقدص میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ہالہ کو اپنے والدین اور اپنے گھر کی یاد آتی ہے۔ لیکن اس کا اپنی ماں اور والد کے پاس جانا ممکن نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں