فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل سے تعلقات توڑنے کے نہیں مگر امن کے حامی ہیں: صدر میکسیکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

میکسیکو نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کے بجائے امن پر اصرار کیا ہے۔ میکسیکو کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر کا کہنا ہے ' ہم اسرائیل حماس تنازعے میں غیر جانبدار رہنا چاہتے ہیں اور امن چاہتے ہیں۔

صدر اندرس مینوئل لوپیز نے سیاسی رہنماوں پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعے کے پر امن حل کے لیے کوششیں کریں۔

اس سے قبل لاطینی امریکہ کے ملک کومبیا، چلی ، ہنڈراس نے غزہ میں شہریوں پر اسرائیلی بمباری کے خلاف اپنے سفیروں کو اسرئیل سے واپس بلا لیا ہے۔ بولیویا نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی معاہدے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم میکسیکو کے صدر نے اس بارے میں امن کی بات کرتے رہنے اور اسرائیل کےس اتھ تعلقات ختم نہ کرنے کی بات کی ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں صدر نے کہا ' میکسیکو غیر جانبدار رہتے ہوئے مزید بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے تاکہ تشدد اور تنازعہ ختم ہو سکے۔ میں بہت واضح ہوں کہ مسئلے کا حل اسرائیل سے تعلقات ختم کرنا نہیں۔ ہم اس سے اوپر رہتے ہوئے امن کی بات کرنی چاہیے۔' جو کچھ بھی ہورہا ہے بہت تکلیف دہ ہے، غیر انسانی اور غیر منطقی ہے۔ اس لیے میں امن اور جنگ بندی کے ساتھ ہوں۔'

واضح رہے اس سے قبل میکسیکو نے حماس کے اسرائیل پر حملے کی بھی مذمت کی تھی مگر اس کی سفارتکار الیسیا بیونروسترو نے اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کی مخالفت کی اور کہا اسرائیل کو فلسطینی علاقوں پر ناجائز قبضہ ختم کرنا چاہیے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں