بیلجئیم کی نائب وزیراعظم نے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر دیا

متشدد یہودی آباد کاروں، فوجیوں اور اسرائیلی سیاستدانوں کا یورپ داخلہ بند کیا جائے: پیٹرا ڈی سٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیلجئیم کی نائب وزیر اعظم پیٹرا ڈی سٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے باعث اسرائیل کے خلاف بیلجئیم کی حکومت اقتصادی پابندی عاید کرے۔ نیز اسرائیل کی طرف سے ہسپتالوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بمباری کی تحقیقات کرائی جائیں۔

انہوں نے کہا شہریوں پر بمباری کی بارش کر دی گئی ہے، یہ وقت ہے کہ اسرائیل کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں۔

ان کا کہنا تھا ’یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی مطالبات اور تقاضوں کی پروا کرنے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ اس سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘

نائب وزیر اعظم نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلق کے معاہدے کو معطل کرے۔ جس کا مقصد بہتر اقتصادی اور سیاسی تعاون کرنا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا 'مقبوضہ فلسطینی علاقے سے تعلق رکھنے والی مصنوعات کی درآمد بھی اسرائیل سے فوری طور پر بند کی جائیں۔ اسی طرح فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے ذمہ دار یہودی آباد کاروں، سیاست دانوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے کر ان کے یورپ داخلے پر پابندی لگائی جائے۔

نائب وزیر اعظم نے اپنی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ بمباری کی تحقیقات کرائے اور حماس کو رقوم کی منتقلی پر کٹ لگائے۔

اسی طرح حماس جیسی دہشت گرد تنظیم سے تعاون کرنے والی کمپنیوں اور لوگوں پر بھی پابندیاں لگائی جائیں۔ ادھر گروپ سیون کے ملکوں نے کہا ہے کہ اس جنگ کے ہم دوسرے ماہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ ضروت ہے کہ جنگ میں انسانی بنیادوں پر ایک وقفہ کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں