’’وسیع پیمانے پر مکانات، شہری آبادیوں اور انفراسٹرکچر پر منظم بمباری جنگی جرم ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کے شہریوں پر دور تک پھیلی ہوئی اور منظم بمباری کے ذریعے مکانات اور شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا جنگی جرم کے ذمرے میں آتا ہے اور یہ انسانیت کے خلاف بھی جرم ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ایک غیر جانبدار ماہر نے بدھ کے روز کہی ہے۔

اسرائیل کے ایک ماہ تک غزہ میں ہدف بنا کر رہائشی آبادیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 45 فیصد تک ہر مکان تباہ ہو چکا ہے۔ بالا کرشنن راجگوپال غیر جاانبدار ماہر نے خبر دار کیا کہ بمباری سے ہونے والی تباہی کے باعث انسانی زندگیوں کی بے تحاشا قیمت ادا کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ’’بین الاقوامی قانون مکانات اور شہری ضرورت کی چیزوں کو منظم انداز سے اور وسیع پیمانے پر تباہ کرنا سختی سے منع بھی ہے اور جنگی جرم بھی ہے۔ اس امر کی آگاہی سے بے اعتنائی برتنا بلکہ اس کی مخالفت اور دشمنی کرتے ہوئے منظم انداز میں گھروں اور شہری انفرسٹرکچر کو تباہ کرنا جنگی جرم ہے۔‘‘

واضح رہے ایک ماہ سے مختلف اہم بین الا قوامی شخصیات، عالمی اداروں کے عہدے دار، مختلف ملکوں کے سربراہان اور بین الاقوامی تنظیمیں اسرائیل کی غزہ پر مسلسل، منظم بمباری کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں، لیکن ایک ماہ گزرنے کے باوجود اسرائیل کے خلاف کسی بھی فورم سے کوئی قانونی کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے۔

حتیٰ کہ اسرائیل کی کابینہ کے رکن کی طرف سے غزہ میں ایٹم بم گرانے کو واضح طور پر اسرائیلی آپشن قرار دیے جانے کا بھی کسی بڑے ملک یا اعالمی ادارے نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ نہ ہی اسرائیل ایسے بین الاقوامی قوانین، قراردادوں اور فیصلوں کی دھجیاں بکھیرنے کے باوجود اس کے پاس جوہری بموں کی موجودگی کو دنیا کے اور خطے کے لیے خطرناک کہا گیا ہے۔

یو این او کے ماہر کے مطابق 'اس طرح کی کارروائیاں جو شہری آبادیوں کے خلاف کی جاتی ہیں وہ در اصل انسانیت ہی کے خلاف جرائم میں شامل ہیں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں