حماس کےہاتھوں یرغمال امریکی-اسرائیلی فوجی کےوالدین مدد کےلیےبائیڈن کی طرف دیکھتےہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایک دوہری قومیت والے امریکی اسرائیلی فوجی عمر نیوٹرا کے والدین اپنے بیٹے کو گھر لانے کے لیے صدر جو بائیڈن پر اعتماد کر رہے ہیں کیونکہ خیال ہے کہ وہ ان سیکڑوں یرغمالیوں میں سے ایک ہے جنہیں حماس نے گذشتہ ماہ غزہ سے حملے میں پکڑا تھا۔

جب سے ان کی اس آزمائش کا آغاز ہوا ہے، بیٹے اور دیگر یرغمال خاندانوں کے بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔

 دوہری قومیت کے امریکی-اسرائیلی فوجی عمر نیوٹرا کے بارے میں خیال ہے کہ وہ حماس کے گذشتہ ماہ غزہ سے حملے میں پکڑے گئے سینکڑوں یرغمالیوں میں سے ایک ہے۔
دوہری قومیت کے امریکی-اسرائیلی فوجی عمر نیوٹرا کے بارے میں خیال ہے کہ وہ حماس کے گذشتہ ماہ غزہ سے حملے میں پکڑے گئے سینکڑوں یرغمالیوں میں سے ایک ہے۔

ان کے والد رونن نیوٹرا نے اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں بتایا، "ہمیں لگتا ہے کہ ہم آپ میں سے زیادہ تر افراد سے الگ کسی کائنات میں رہتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم صحیح طرح سو نہیں سکتے، کھا پی نہیں سکتے۔" یہ کہتے ہوئے ان کا چہرہ اور آواز تھکی ہوئی تھی۔ "ہم نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ ہمارا ایک چھوٹا سا کاروبار ہے، ہم اس میں شامل نہیں ہو رہے۔ سب کچھ رک سا گیا۔"

"یہ مہینہ گویا تین مہینوں کے برابر محسوس ہوتا ہے اور پھر یوں لگتا ہے گویا کل ہی کی بات ہو۔" عمر کی ماں اورنا نے کہا جو بہت کمزور نظر آ رہی تھیں۔

حماس کے عسکریت پسندوں نے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر ایک اچانک حملہ کیا جس کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,400 افراد - زیادہ تر عام شہری – ہلاک ہو گئے جب کہ اسرائیل کے مطابق انہوں نے تقریباً 240 یرغمالیوں کو بھی پکڑ لیا۔

فلسطینی علاقے حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں ایک بمباری مہم شروع کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کو تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس میں 10,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

اورنا کہتی ہیں کہ انہیں اور دیگر یرغمالیوں کے خاندانوں کو ان کے لاپتہ عزیزوں کی حالت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں -- کہ انہیں کھانا مل رہا ہے، کہیں وہ زخمی تو نہیں -- اور وہ حماس کے حملے کے مقصد کو نہیں سمجھتی ہیں۔

اسرائیل نے 2005 میں غزہ کی پٹی سے دستبرداری اختیار کی اور دو سال بعد جب حماس نے فلسطینی سرزمین پر قبضہ کیا تو انہوں نے فضائی، بحری اور زمینی ناکہ بندی کر دی۔

امریکہ کا خیال ہے کہ حماس نے 10 امریکیوں کو غزہ میں قید کر رکھا ہے جن میں سے دو کو گذشتہ ماہ رہا کیا گیا تھا۔

بدھ کے روز کچھ غم زدہ خاندانوں کے لیے امید کی کرن نظر آئی کیونکہ حماس کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں تین روزہ جنگ بندی کے بدلے میں چھ امریکیوں سمیت ایک درجن مغویوں کی رہائی کے لیے بات چیت جاری تھی۔

امریکی یرغمالیوں کے خاندان کے کچھ افراد نے 13 اکتوبر کو بائیڈن سے ایک ویڈیو کال میں بات کی تھی۔

رونن نے کہا کہ بائیڈن جنہوں نے حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی حمایت کا وعدہ کیا ہے، انہوں نے جب ایک گھنٹے سے زائد خاندانوں سے بات کی تو ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا وہ یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

اورنا نے مزید کہا۔ "جیسا کہ انہوں نے کہا یہ اولین ترجیح ہے۔"

والدہ نے عمر کو مضبوط قائدانہ صلاحیتوں کا حامل "خوشگوار اور ملنسار بچہ قرار دیا جس کی عمر کھیلنے اور موج مستی کرنے" کی ہے۔ عمر یرغمال بنائے جانے کے ایک ہفتے بعد 22 سال کا ہو گیا۔

اس کی والدہ نے بتایا کہ لانگ آئی لینڈ پر پرورش پانے والا عمر اپنے والدین کے ملک کا تجربہ کرنے اسرائیل گیا تھا۔ وہ اپنے دادا دادی کے تجربات سے بھی متأثر تھا جو ہولوکاسٹ سے بچ گئے تھے۔

ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد عمر سیدھا یونیورسٹی نہیں گیا اور اس کے بجائے اسرائیل کا سفر کیا۔ وہ آخرِ کار فوجی خدمات کے لیے بھرتی ہو گیا جیسے اس کے والدین ہوئے تھے -- اور جیسا زیادہ تر نوجوان اسرائیلی کرتے ہیں۔

رونن نے کہا۔ "ہم نے بس یہ سوچا کہ اس کے لیے دوسرے لوگوں سے ملنے، اسرائیل میں تنازعات کو سمجھنے اور اپنے اگلے اقدامات کے بارے میں بعد میں فیصلہ کرنے کا ایک بہترین موقع تھا۔"

اورنا نے مزید کہا: "آپ کو پتا ہے وہ وہاں صحیح وجوہات کی بناء پر گیا تھا، اس نے سوچا کہ وہ حفاظت کرنا چاہتا تھا، وہ اس قسم کا آدمی نہیں ہے جو جنگ چاہتا تھا۔"

نیوٹراز نے آخری بار اپنے بیٹے کے ساتھ حماس کے حملے سے ایک دن پہلے بات کی تھی۔

جب غزہ سے غیر معمولی راکٹ فائر ہونے اور حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو عمر کے والدین نے اسے پیغامات بھیجے لیکن کوئی جواب نہ ملا۔

رونن نے مزید کہا، "ٹینک پر موجود (اس کی) ٹیم کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، سرکاری طور پر دو اہلکاروں کے ساتھ ہمارے دروازے پر دستک دینے اور بنیادی طور پر ہمیں باضابطہ یہ بات بتانے میں اسرائیلی حکومت کو مزید دو دن لگے۔"

خاندان کو معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا غزہ کی سرحد پر جس ٹینک میں تھا اسے میزائل کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

رونن نے کہا، "اس میں آگ لگنا شروع ہو گئی اور ایک موقع پر انہیں ٹینک کھول کر خود کو بچانا پڑا ورنہ وہ اندر ہی مر جاتے۔ اس وقت انہیں باہر نکال کر غزہ لے جایا گیا تھا۔"

انہوں نے یرغمالیوں کی طبی نگہداشت تک رسائی اور صلیبِ احمر تنظیم سے رابطہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا۔ "ہم تمام مہذب دنیا سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایک ساتھ کھڑے ہوں اور کہیں، 'آپ جانتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔'

"اور خاندان میں ان کی واپسی پر آپ کو بات چیت کرنی ہوگی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں