روسی شہریوں کے غزہ سے انخلا میں دو ہفتے لگنے روس کا اظہار حیرت

برازیل میں اسرائیل پر اسی سلسلے میں پسند ناپسند اور سیاست کا الزام لگایا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس نے اس امر پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے کہ غزہ سے روسی شہریوں کے انخلا میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ روس نے اس امر پر دکھ اور حیرت کا اظہار اسرائیلی سفیر کی طرف سے یہ بات روسی میڈیا کو بتائے جانے کے بعد کہی ہے۔

غزہ سے مجموعی طور پر سات ہزار غیر ملکیوں کے انخلا کو ممکن بنایا جانا ہے۔ جن میں پانچ سو سے زیادہ کی تعداد میں روسی شہری بھی ہیں۔

اسرائیل کے بارے میں اس سے قبل بھی بعض ملکوں کو تشویش رہی ہے کہ اسرائیل غیر ملکی شہریوں کے غزہ سے انخلا کے حوالے سے اپنی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر فہرست میں نام شامل کرتا ہے۔

اس بارے میں برازیل کی حکمران جماعت نے کھل کر اظہار کیا تھا کہ اسرائیل اس کے شہریوں کے بارے میں سیاست کا شکار ہو کر ان کے انخلا کو مؤخر رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے اسرائیل کی مسلسل غزہ پر بمباری کی مذمت کرنے والے ملکوں کو اس طرح کی شکایت زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔ اتفاق سے برازیل اور روس بھی انہی میں شامل ہیں۔

روس میں اسرائیلی سفیر نے بتایا ہے کہ ہر روز غزہ سے تقریباً پانچ یا چھ سو غیر ملکیوں کا انخلا ممکن بنانے کی کوشش ہے۔ تاہم ان میں سے ابھی تک کسی ایک بھی روسی شہری کا انخلا والی فہرست نام نہیں دیکھا گیا ہے۔

اس پر روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے جمعرات کے روز رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا 'ہمیں واقعی اس بات نے حیران کیا ہے کہ روسی شہریوں کے انخلا میں اتنا وقت لگے گا۔'

دوسری جانب امریکہ، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا ان ملکوں میں نمایاں ہیں جن کے شہریوں کا غزہ سے انخلا ممکن بنا لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں