غزہ جنگ سے متاثرین کی امدادی کانفرنس میں اسرائیل کا شرکت سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی میزبانی میں ہونے والی غزہ کے لیے انسانی امداد سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس میں نہتے معصوموں پر بمباری میں مشغول اسرائیل غیر حاضر رہے گا۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق میکرون کے ایک معاون نے اجتماع سے قبل نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل کی عدم شرکت کے باوجود کئی سرکردہ ممالک نے اس سانحہ میں انسانی صورتحال کی بہتری میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج جارحیت میں 10,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر بچے شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ کو کوئی ایندھن کی فراہمی پرپابندی رہے گی اور حماس کے ساتھ اس وقت تک کوئی جنگ بندی نہیں کی جائے گی جب تک مغویوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔

فرانسیسی صدر میکرون نے منگل کو نیتن یاہو سے رابطہ کیا جمعرات کی امدادی کانفرنس ختم ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں نے پھر سے بات کرنے پر حامی بھری ہے۔

حماس کے قریبی ذرائع نے بدھ کو اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں تین روزہ جنگ بندی کے بدلے میں چھ امریکیوں سمیت حماس کے زیر حراست درجن بھر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت جاری ہے۔

ایک اور ذریعے نے کہا کہ قطر امریکہ کے ساتھ مل کر مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے تاکہ ایک سے دو دن کی جنگ بندی کے بدلے میں 10-15 یرغمالیوں کو رہا کیا جا سکے۔

مصر کی طرح قطر بھی غزہ کی پٹی میں مزید امداد پہنچانے کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ میکرون نے منگل کو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے بات کی۔

اس امدادی کانفرنس کا 10-11 نومبر کو پیرس میں سالانہ پیس فورم کے انعقاد کے موقع پر عجلت میں اہتمام کیا گیا ہے۔

فرانس کی وزارت خارجہ کے مطابق اس تقریب کا مقصد تمام بڑے عطیہ دہندگان سے رابطہ اور غزہ کے لیے امداد کی فراہمیمیں تیزی لانا ہے۔

اس تقریب میں چند عرب ممالک کے وفود کی شرکت کی توقع ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے وزیر اعظم اور مصر ایک وزارتی وفد بھیجے گی۔

ان کے علاوہ یونان، آئرلینڈ اور لکسمبرگ کے وزرائے اعظم، یورپی یونین کے سربراہ چارلس مشیل اور ارسولا وان ڈیر لیین کے ساتھ شرکت کریں گے۔ کانفرنس کے اختتام پر کسی مشترکہ اعلامیے کو جاری کرنے کا منصوبہ نہیں ہے۔

ایک یورپی سفارتی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ فرانس صرف سخت لہجہ میں عملی طور پر انسانی ہمدردی پر اصرار کر رہا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ یہ کانفرنس اسرائیل کی مذمت کے لیے ایک پلیٹ فارم میں تبدیل ہو۔

دریں اثناء 13 بڑی امدادی تنظیموں بشمول ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز، Oxfam اور نارویجن ریفیوجی کونسل نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ لڑائی کو روکنے میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی سربراہوں کو فوری جنگ بندی حاصل کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہیں اور امداد کے لیے تیز رفتار رسائی کا راستہ نکالنا ہو گا۔

اقوام متحدہ کے تخمینہ کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں آبادافراد کے لیے اس سال کے آخر تک امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی امداد درکار ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں