غزہ جنگ میں طاقت کے وحشیانہ استعمال پرامریکی انتظامیہ میں دراڑیں پڑنے لگیں

غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ہلاکتوں پر کئی عہدیدار سخت ناراض، اسرائیل کو دفاع کا حق ںہیں دے سکتے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جیسے ہی غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہوئی اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں میں تقریباً 4500 بچے بھی شامل ہیں جب کہ غزہ میں مجموعی اموات کی تعداد تقریباً 10,500 تک پہنچ گئی ہے۔

جیسے جیسے غزہ جنگ طول پکڑ رہی ہے، ایسےمیں اس پر عالمی تشویش کےساتھ امریکی انتظامیہ میں بھی بے چینی کی لہر پیدا ہونے لگی ہے۔

امریکی حکام اور سرکاری ملازمین میں جنگ بندی کی حمایت میں آوازیں اٹھنے لی ہیں اور جنگ بندی کے لیے امریکی انتظامیہ پر دباؤ بڑھنے لگا ہے۔

غزہ کے ہولناک مناظر دیکھ کر حیران رہ گئے

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے کچھ سینیر عہدیداروں نے نجی طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ایسے پہلو ہیں جن کا وہ دفاع نہیں کر سکتے۔

’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق متعدد ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں روزانہ فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی مسلسل تصاویر دیکھ کر کئی اہلکار حیران ہیں۔

غزہ کا ایک منظر
غزہ کا ایک منظر

انتظامیہ کے ایک سینیر اہلکار نے کہا کہ "بمباری اور فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد نے بڑی اخلاقی تشویش پیدا کر دی ہے، لیکن کوئی بھی عوامی سطح پر یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہم سب صدر کی خوشنودی سے کام کر رہے ہیں۔"

سب سے زیادہ پرتشدد ردعمل

جب کہ امریکی وزارت خارجہ کے اندر سے کچھ انتہائی پرتشدد ردعمل سامنے آئے، جب کہ وزارت خارجہ کے ایک سرکردہ اہلکار نے گذشتہ ماہ لڑائی کے بارے میں بائیڈن انتظامیہ کے نقطہ نظر کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کے سینکڑوں ملازمین نے بھی حال ہی میں بائیڈن انتظامیہ کو ایک کھلا خط بھیجا جس میں اس سے جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کی اپیل کی گئی، جسے انتظامیہ اب تک مسترد کر چکی ہے۔

یہ ناراضگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ کے مستقبل کے حوالے سے ایک تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے چند روز قبل تجویز دی گئی تھی کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ان کا ملک غیر معینہ مدت کے لیے غزہ کا سکیورٹی کنٹرول سنھبالے گا۔

امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے "غزہ کی پٹی پر دوبارہ اسرائیلی قبضے" کی مخالفت کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کےقیام تک غزہ کو عبوری انتظام کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے۔

تاہم سی این این کے مطابق یہ اشارے دونوں اتحادیوں کے درمیان زیادہ گہرے اختلاف کی نشاندہی نہیں کرتے۔

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے 34 دن ہوچکے ہیں۔ اس عرصے میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر شدید بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 10,569 ہو گئی، جن میں 4,324 بچے اور 2,823 خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں