فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ میں طویل وقفہ کیا جائے، دنیا میں یہود مخالف لہر ہے: جسٹن ٹروڈو

محفوظ اسرائیل اور آزاد فلسطین کے لیے دوریاستی حل کا بھاری بوجھ اٹھا لینا چاہیے: وزیر اعظم کینیڈا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جسٹن ٹروڈو ، وزیر اعظم کینیڈا نے انسانی بنیادوں پر غزہ کی جنگ میں نظر آنے والا وقفہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ 'تمام یہودی یرغمالی رہا ہوسکیں، سارے ملکوں کے شہریوں کو غزہ سے نکالا جا سکے اور غزہ کے شہریوں کے لیے معقول امدادی سامان کی غزہ میں رسائی ممکن بنائی جا سکے۔'

اس سے پہلے کینیڈا نے جنگ میں وقفوں کی ایک سیریز کا مطالبہ کیا تھا تاکہ امدادی کارروائیاں ممکن بن سکیں۔ لیکن اب انہوں نے واضح طور پر اس بمباری کی مسلسل زد میں رہنے والے غزہ کے لیے ایک لمبے وقفے کا مطالبہ کیا ہے۔

جسٹن ٹروڈو کا واضح الفاظ میں کہنا تھا ' مجھے خوف کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے میں سیدھی بات کر رہا ہوں کہ انسانی بنیادوں پر جنگ میں ایک طویل وقفہ کیا جائے ، اس وقفے کے دوران تمام یہودی یرغمالی رہا ہو جائیں، تمام غیر ملکوں کو غزہ سے نکالا جا سکے۔'

انہوں نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا ' اس وقفے کے دوران غزہ میں کافی اور حقیقی امدادی کارروائیاں کی جاسکیں تاکہ اس انتہائی ناپسندیدہ انسانی بحران کو ختم کیا جاسکے۔'

ٹروڈو نے پوری دنیا میں ایک خوفناک یہود مخالف لہر کے اٹھنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا عبادت گاہوں میں دستی بم پھینکے جاتے تھے، اسی طرح اسلام مخالف مہم بھی بڑھ رہی ہے۔ '

کینیڈین وزیر اعظم نے کہا یہ وہ چیزیں نہیں جنہیں ہم کینیڈین ہونے کے ناطے دیکھ رہے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں ہم کینیڈا میں قبول نہیں کر سکتے۔' لیکن ہم کینیڈین اس وقت اپنی گلیوں میں خوفزدہ ہیں۔'

اس لیے ہمیں اس امکانی خظرے کو سمجھنے کی کوشش میں رہنا چاہیے، لاکھوں کینیڈین کے درد اور خوف کو سمجھنا چاہیے۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا ' مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دوریاستی حل کے بھاری بوجھ کو اٹھایا جانا چاہیے تاکہ ایک محفوظ فلسطین اور محفوظ اسرائیل کا تصور ممکن ہو ۔'

ایک ایسے آزاد فلسطین کا قیام جو 1967 کی اسرائیل عرب جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں پر مشتمل ہو۔ بین الاقوامی سطح پر امن کی کوششیں طویل عرصے سے ہوتی رہی ہیں لیکن اب یہ عمل موجود نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں