پیرس کانفرنس کا اسرائیل ۔ حماس جنگ میں وقفے کا مطالبہ

کانفرنس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی یاہو سے مشاورت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں وقفے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس کی میزبانی میں اسرائیل حماس جنگ کے بارے میں صورت حال کا جائزہ لینے اور غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کے بارے میں حکمت عملی کے لیے بلائی گئی کانفرنس سے افتتاحی خطاب کر رہے تھے۔

صدر میکرون ان لیڈروں میں سے ہیں جنہوں نے سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے محض چند دن بعد اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور اسرائیل کے ساتھ اس جنگ میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے اب جنگ کے پانچویں ہفتے میں کہا ہے ' ہم فوری طور پر سویلینز کو بچانا چاہتے ہیں۔' اس لیے ہم انسانی بنیادوں پر جلدی وقفہ چاہتے ہیں، ہمیں فوری طور پر جنگ بندی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

دوسری جانب اسرائیل نے 24 لاکھ کے شہر غزہ کے لیے انسانی بنیادوں پر امدادی اشیا کی فراہمی کے لیے بات چیت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ غزہ میں موجود وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ساڑھے دس ہزارسے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے 'اسرائیل غزہ میں ایندھن کی ترسیل نہیں ہونے دے گا اور نہ ہی حماس کی طرف سے یرغمالی رہا کیے جانے تک جنگ بندی کرے گا۔ '

میکرون نے دورز قبل منگل کے روز بھی نیتن یاہو سے بات کی اور اس کے بعد جمعرات کے روز پیرس میں کانفرنس کے آغاز سے پہلے یاہو کے ساتھ پھر ضروری مشورہ اور تبادلہ خیال کیا۔

ادھر اسرائیل کے ایک وزیرموشے تیترو کا کہنا ہے کہ ' یہ درست یے کہ غزہ میں صورت حال اچھی یا آسان نہیں نہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ اسرائیل اس صورت حال کو انسانی بحران کے طور پر دیکھے۔'

بدھ کے روز حماس کی طرف سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ چھ امریکیوں سمیت ایک درجن یرغمالیوں کو رہا کرنے اور تین دن کے لیے جنگ بندی کرنے پر بات چیت چل رہی ہے۔

ایک اور ذریعے کے مطابق قطر کی مدد سے بات چیت دس سے پندرہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری ہے۔ جس کے بدلے میں دو دن کی جنگ بندی ہو سکتی ہے۔

میکرون نے منگل کے روز یاہو سے بات کرنے کے علاوہ مصری صدر السیسی اور قطری امیر شیخ تمیم بن حماد آل ثانی سے بھی یرغمالوں کی رہائی کے ایشو پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

جمعرات کے روز کانفرنس جسے اب امدادی کانفرنس کا نام دیا گیا ہے کی سائیڈ لائنز پر کافی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ کہ 10 اور 11 نومبر کو پیرس میں سالانہ پیرس امن کانفرنس کا انعقاد بھی متوقع ہے۔

خیال یہ ہے کہ تمام بڑے ڈونرز کو غزہ کے لیے امداد کے سلسلے میں تیز کیا جائے گا۔

فرانس کی طرف سے چند روز پہلے اس کانفرنس کے انعقاد کے اعلان کے موقع پر یرغمالیوں کی رہائی اور امدادی سامان حماس کے ہاتھ نہ لگنے کے امور کو ممکن بنانے کو اس کانفرنس کے ذریعے یقینی بنانے کا کہا گیا تھا۔

کانفرنس کے اہم شرکا کی طرف سے مکمل جنگ بندی کے بجائے جنگ میں وقفے پر زور دینے کی توقع کی جارہی ہے کہ امریکہ ، فران ، برطانیہ اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بعد اسی حد تک جا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں