جنوبی افریقہ نے اسرائیلی سفیر کو 'تبادلہ خیال' کے لیے طلب کر لیا

سفیر کو لکھے گئے خط میں ویانا کنونشن کی یاد دہانی، غزہ میں جنگ بندی کا بھی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی سفیر کی جنوبی افریقہ سے متعلق گفتگو پر تبادلہ خیال کے لیے طلب کر لیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اسرائیلی سفیر کو جمعرات کے روز خط لکھا گیا مگر اس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اسرائیلی سفیر کی غزہ کے بارے میں میزبان ملک گفتگو کو جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے بد قسمتی قرار دیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ جنوبی افریقہ کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ بطور سفیر کو اپنا کنڈکٹ ویانا کنونشن کے مطابق رکھنا چاہیے جو ایک سفیر کو کچھ حقوق اور کچھ ذمہ داریاں دیتا ہے۔ نیز اسی کنونشن کے تحت ایک سفیر کو میزبان ریاست کے خود مختارانہ فیصلوں کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔'

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ اسرائیلی سفیر کو دوبارہ بلایا ہے، مگر فوری طور پر اس معاملے کے بارے میں میڈیا کی درخواست کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

واضح رہے جنوبی افریقہ نے اسی ہفتے تل ابیب میں اپنے سفارتکاروں کو غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کے ماحول میں واپس مشورے کے لیے بلانے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لیا جا سکے۔

جنوبی افریقہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا طویل عرصے سے حامی ملک ہے۔ جنوبی افریقہ 1994 میں ختم ہونے والی نسل پرستی سے پہلے کے حالات کا جنوبی افریقہ اور فلسطین کے حالات کو ایک جیسے قرار دیتا رہا ہے۔ تاہم اسرائیل اس تقابل کو مسترد کرتا رہا ہے۔

جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جمعہ کے روز اس افریقی ملک اپنے اس مطالبے کا بھی اعادہ کیا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم بشمول فلسطینیوں کی تحقیقات کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں