عبوری مدت کے لیے غزہ میں اسرائیل کے حفاظتی کردار کی حمایت کرتے ہیں: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے جمعرات کو کہا ہے کہ غزہ کی صورتحال اس وقت تک ایسی ہی رہے گی اور جنگ ختم نہیں ہوگی جب تک اسرائیل محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ کلیورلی نے ایک ایسے محفوظ مستقبل فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان بقائے باہمی کی ضمانت دیتا ہو۔

انہوں نے کہا "مجھے یقین نہیں کہ اسرائیل بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔"

برطانوی وزیر خارجہ نے ’’العربیہ‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ برطانیہ نے اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس میں حماس کے جرائم کی مذمت نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا ہمیں توقع ہے کہ غزہ میں جنگ جلد از جلد ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ اسرائیل نے غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

لندن نے تل ابیب کو آگاہ کیا ہے کہ مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ عبوری مدت کے لیے غزہ میں اسرائیل کے لیے حفاظتی کردار کی حمایت کرتا ہے۔ ہم غزہ میں ایسے پرامن اقتدار کی منتقلی چاہتے ہیں جس میں حماس موجود نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ طویل عرصے سے دو ریاستی حل اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کے لیے پرعزم ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حماس کے سات اکتوبر کے حملے سے پر امن دو ریاستی حل کے لیے کوششوں کو دوگنا کرنے کی ضرورت کی یاد دہانی ہوئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے مطالبات قابل فہم ہیں لیکن جس چیز کو تسلیم کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیل اپنے استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تنازع کا جلد از جلد حل دیکھنا چاہتے ہیں۔ فوری چیلنج غزہ کے لوگوں کی انسانی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت معاملے کو ایک ایسی صورتحال کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے جس میں خطے میں امن قائم ہو اور جس میں اسرائیلی خود کو محفوظ محسوس کریں اور جس میں فلسطینیوں کے پاس ایک پائیدار ریاست کی طرف جانے کا واضح راستہ ہو۔

اپنے مشرق وسطی کے دورے کے دوران کلیورلی کی سعودی عرب، اردن، لبنان، فلسطینی اتھارٹی، بحرین اور کویت کے وزرائے خارجہ سے ملاقات متوقع ہے۔ وہ جی 7 اجلاس میں شرکت کے بعد ٹوکیو سے ریاض پہنچے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں