پولیس پر تنقید، برطانوی وزیر داخلہ کی برطرفی کے لیے سونک پر دباؤ بڑھ گیا

وزیر داخلہ سویلا بریورمین لندن میں فلسطینیوں کے لیے مظاہروں کو کچلنا چاہتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک کو اپنی وزیر داخلہ سویلا بریورمین کی برطرفی کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر داخلہ سونک کی کابینہ میں شامل سینئیر وزیروں میں سے ایک ہیں اور مستقبل میں پارٹی کی قیادت سنبھالنے کی بھی کوشش میں ہیں۔

لیکن ان پر تنقید کا سبب ان کا وہ مضمون بن گیا ہے جو انہوں نے آتشیں انداز میں ٹائمز میں ہفتے کے روز فلسطینیوں کے حق میں لندن میں ہونے والے ممکنہ بڑے مظاہرے سے قبل لکھا اور پولیس کو مظاہرین کے ساتھ سلوک (نرم سلوک) پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کی طرف سے پولیس پپر تنقید کا یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں ایک ماہ سے چل رہا ہے۔ وہ پولیس کو مظاہرین کے معاملے میں دوہرے معیار کا طعنہ بھی دے رہی ہیں۔ وہ فلسطینیوں کے حق میں مظاہرین کے سڑکوں پر نکلنے کو ناپسند کرتی ہیں اور برداشت نہیں کرنا چاہتیں۔ مگر قانون انہیں اختیار نہیں دیتا۔

اسرائیل اور حماس کی جنگ نے برطانیہ میں بھی سوچ کے دونوں دھاروں کو واضح کر دیا ہے۔ اسرائیل کی مسلسل بمباری سے فلسطینیوں بچوں اور عورتوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکت کو عوام کی بڑی تعداد اسرائیل کا انسانیت کے خلاف اقدام سمجھتی ہے۔ جبکہ برطانوی حکومت اسرائیل کے ان اقدامات کی سرپرستی کر رہی ہے۔

اب لندن میں ہفتے کو فلسطینیوں کے حق میں ممکنہ مظاہرے کو بھی وزیر داخلہ کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں کے لیے سخت الفاظ 'نفرتی مارچ' اور ہجوم استعمال کیے۔ اہم بات یہ ہے کہ بطور وزیر داخلہ وہ پولیس اور سلامتی سے متعلق امور کی نگران ہیں لیکن پولیس سے جس طرح کے کام لینا چاہتی ہیں وہ پولیس کے خیال میں قانون کے دائرے سے باہر ہو سکتا ہے۔

اب سنیچر کے روز فلسطین کے حق میں امکانی مظاہرے کی وزیر اعظم کی سطح بھی مخالفت کی گئی کہ جنگ عظیم اول کے سپاہیوں کے یادگاری دن ( اگلے روز اتوار کو منایا جانا ہے) پر برے اثرات ہو سکتے ہیں، تاہم پولیس اور دوسرے اداروں نے ابھی تک اس مفروضے سے اس لیے اتفاق نہیں کیا کہ دونوں 'ایونٹس' الگ الگ دنوں میں ہیں۔

اس صورت حال میں وزیر داخلہ نے پولیس پر تنقید سے بھر پور مضمون لکھ کر اخبار میں شائع کرا دیا۔ اگرچہ وزیر اعظم کا دفتر تحقیقات کرا رہی ہے کہ یہ مضمون کس طرح شائع ہو گیا کہ حکومت نے مضمون میں جو تبدیلیاں کرانا چاہی تھیں ان کے بغیر ہی شائع ہو گیا!

واضح رہے برطانوی حکومت کے ضابطہ اخلاق میں یہ طے ہے کہ کسی بھی وزیر نے اگر کوئی بڑا اعلان کرنا ہو، پریس کانفرنس کرنا ہو۔ کوئی تقریر کرنا ہو یا کوئی پریس ریلیز جاری کرنا ہو تو اس کی حکومت سے منظوری لے گا۔ لیکن وزیر داخلہ نے یہ مضمون شائع ہونے کے بعد سے اب تک اپنے اس رویے پر معذرت بھی نہیں کی ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر نے اس بارے میں بھی بات کرنے سے منع کیا ہے کہ وزیر اعظم رشی سونک اور وزیر داخلہ کے درمیان اس دباؤ کے بعد کوئی ملاقات ہوئی ہے۔ یا یہ کہ وزیر اعظم پولیس اور عوام کے دباؤ کے باعث وزیر داخلہ کی برطرفی کا سوچ رہے ہیں۔

دوسری جانب حکمران کنزرویٹو پارٹی کے بعض رہنماؤں نے وزیر داخلہ کے اس متنازعہ مضمون کی اشاعت کے بعد خود کو ان سے فاصلے پر کر لیا ہے۔

جیفری کلفٹن براؤن کنزرویٹو پارٹی کے اہم رہنما ہیں انہوں نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'سویلا بریورمین کے ریمارکس غیر دانشمندانہ تھے، اس سے پہلے ایسی بات کسی نے کبھی نہیں کی ہے، سونک کو چاہیے کہ انہیں کسی اور کردارکے لیے کہہ دیں۔'

اپوزیشن لیڈر نے کہا 'سونک کمزور ہیں اس لیے وزیر داخلہ کو برطرف نہیں کر سکیں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں