چین اور اسرائیل کے متعلق بات چیت کے لیے بلینکن کا دورۂ بھارت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلینکن نے جمعہ کو نئی دہلی میں بات چیت کی جس میں چین کے خلاف علاقائی مقابل کے طور پر ہندوستان کو تقویت دینے اور حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ پر اپنے مؤقف کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

بلینکن اور امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ سالانہ "ٹو پلس ٹو" مذاکرات میں شامل ہوئے جس کے بارے میں ہندوستان نے کہا کہ "دفاع اور سکیورٹی تعاون" پر توجہ مرکوز کریں گے۔

آسٹن نے افتتاحی کلمات کے دوران کہا۔ "فوری عالمی چیلنجوں کے تناظر میں یہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتیں خیالات کا تبادلہ، مشترکہ اہداف کی تلاش اور اپنے لوگوں کے لیے کام کریں۔"

آسٹن نے مزید کہا، "ہم نے گذشتہ ایک سال کے دوران اپنی اہم دفاعی شراکت داری کی تعمیر میں متأثرکن کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس سے ہمیں امن و استحکام کے مقصد کے لیے مزید تعاون کرنے میں مدد ملے گی۔" آسٹن نے یہ کہہ کر مزید اضافہ کیا، ان کا تعاون "سمندر سے خلا تک پھیلا ہوا ہے"۔

ہندوستان امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ چار ملکی اتحاد کا حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا گروپ ہے جو ایشیا پیسیفک کے علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے خلاف خود کو ایک مضبوط فصیل کے طور پر کھڑا کرتا ہے۔

سمندری سیٹلائٹ ڈیٹا جس نے "غیر قانونی ماہی گیری، قزاقی اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے" میں مدد کی، اس کے اشتراک کو اجاگر کرتے ہوئے بلنکن نے کہا، "ہم ایک آزاد اور کھلے، خوشحال، محفوظ اور لچکدار ہند-بحرالکاہل کو فروغ دے رہے ہیں۔"

ان کے ہم منصب جے شنکر نے "ہماری تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینے" کی بات کی اور "ہمارے تعلقات میں ایک نئے باب" کی تعریف کی جو جون میں ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ واشنگٹن اور ستمبر میں جی 20 مذاکرات کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کے دہلی کے دورے کے بعد ہوا۔

واشنگٹن کو یہ بھی امید ہے کہ مضبوط دفاعی تعلقات بھارت کے روس سے نجات حاصل کرنے میں مدد کریں گے جو دہلی کا بنیادی فوجی فراہم کنندہ ہے۔

امریکی حکام نے کہا، یوکرین پر روس کا حملہ بھی ایجنڈے میں شامل ہوگا۔

بلینکن کا دورۂ بھارت اس میراتھن سفر کا آخری مرحلہ ہے جس میں جنوبی کوریا، جاپان میں جی سیون وزرائے خارجہ اجلاس -- جس میں غزہ تنازعہ پر مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوشش کی گئی -- اور شرقِ اوسط کا ایک طوفانی دورہ شامل ہے۔

ہندوستان جو واشنگٹن کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے دیرینہ مطالبے کا اشتراک کرتا ہے، نے بلاتاخیر حماس کی مذمت کی اور محصور غزہ کی پٹی سے فلسطینی شہریوں کے لیے مصر کو امدادی ہوائی جہاز بھیج دیا۔

ستمبر میں جی 20 مذاکرات کے دوران یورپ، شرقِ اوسط اور ہندوستان کو ملانے والے ایک اہم تجارتی اور ترسیلی گذرگاہ کی نقاب کشائی کی گئی جس کی امیدوں کی راہ میں غزہ کا تنازعہ ایک بڑا چیلنج ہے۔

جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے اعلیٰ امریکی سفارت کار دونلڈ لو نے کہا۔ "ہم اس تنازعے کو پھیلنے سے روکنے، شرقِ اوسط میں استحکام کے تحفظ، اور دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے کے اہداف کا ہندوستان کے ساتھ اشتراک کرتے ہیں۔"

ہندوستان کا شمالی ہمسایہ چین کے ساتھ طویل عرصے سے سرحدی تنازعہ جاری ہے جس کی وجہ سے 2020 میں ہمالیہ کی مہلک جھڑپ کے ساتھ سفارتی تعلقات میں شدید سرد مہری آ گئی تھی۔ ان کی 3,500 کلومیٹر (2,200-میل) کی مشترکہ سرحد کشیدگی کا ایک طویل ذریعہ بنی ہوئی ہے۔

لو نے سفر سے پہلے کہا۔ "ہمیں یہ سننے میں دلچسپی ہو گی کہ چین کے ساتھ ہندوستان کی بات چیت کا سرحدی مسائل سے کیا تعلق ہے۔"

بائیڈن انتظامیہ نے ایک ہم خیال ساتھی کے طور پر دہلی کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی ہے کیونکہ وہ بھی چین کے عروج سے خائف ہے لیکن بلینکن کا سفر ہندوستان اور ایک اور قریبی امریکی ساتھی - کینیڈا - کے درمیان تلخ تنازعے کی وجہ سے عجیب ہو سکتا ہے۔

ستمبر میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کو اعلانیہ طور پر ہندوستانی انٹیلی جنس سے جوڑ دیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالکت کے درمیان تعلقات میں تنزلی آئی ہے۔ دہلی نے ان الزامات کو "مضحکہ خیز" قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں