ہم نے غزہ کے افراد کو بے گھر کرنے میں مدد نہیں کی: انروا، حماس کے الزام کا جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تحریک حماس نے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (یو این آر ڈبلیو اے) پر اسرائیل کے ساتھ ملی بھگت کا الزام عائد کیا ہے۔ عالمی ادارے نے اس الزام کا جواب بھی دے دیا ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان نے جمعرات کو حماس کے الزام پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ایجنسی نے غزہ کی پٹی کے شمال سے فلسطینیوں کو جنوب میں منتقل کرنے کی درخواست نہیں کی۔

جمعرات کے روز انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے الزام لگایا کہ ہم نے شمالی غزہ سے نقل مکانی میں مدد کی ہے تاہم ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ بدھ کو حماس نے عالمی ادارے پر الزام لگایا تھا کہ وہ غزہ کے رہائشیوں کی جبری نقل مکانی میں اسرائیل کے ساتھ ملی بھگت کئے ہوئے ہے۔

حماس کے سرکاری میڈیا آفس کی سربراہ سلامہ معروف نے ایک بیان میں کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ انروا اور اس کے عہدیداروں کی اسرائیل کے ساتھ واضح ملی بھگت اور جبری نقل مکانی کے منصوبے ان کے کردار کی ناکامی کو ظاہر کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی کے اندر انسانی حالات ایک تباہ کن سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اب یہ یہ ایک تباہ کن علاقہ بن گیا ہے جو نسل کشی اور نسلی تطہیر کے نتیجے میں اس ابتر حالت تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے کو اس انسانی تباہی کے بوجھ کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔ انہوں نے انروا پر یہ بھی الزام لگایا کہ ان علاقوں کے لاکھوں باشندوں کے حوالے سے انروا نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو پناہ، پانی، خوراک، یا علاج کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں