ایردوان کا غزہ تنازع پر بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع کا پائیدار حل نکالنے کے لیے بین الاقوامی امن کانفرنس منعقد ہونی چاہیے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کے غیر معمولی مشترکہ سربراہی اجلاس میں طیب ایردوان نے کہا کہ ہمیں غزہ میں چند گھنٹوں کے وقفے کی ضرورت نہیں ہے اس کے بجائے ہمیں مکمل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

ایردوان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک مشترکہ اسلامی-عرب سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جہاں رہنماؤں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں ظلم ختم کرے۔

ایردوان نے فوری جنگ بندی کے مطالبے کی تائید کرتے ہوئے کہا "اسرائیل انتقام لے رہا ہے غزہ کے بچوں اور عورتوں سے۔ غزہ میں جو چیز ضروری ہے وہ چند گھنٹوں کا تؤقف نہیں بلکہ ہمیں مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔"

ترکی جس نے اسرائیل پر اپنی تنقید میں تیزی سے اضافہ کیا ہے کیونکہ غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، دو ریاستی حل کا حامی ہے اور حماس کے ارکان کی میزبانی کرتا ہے جسے وہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے برعکس ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نہیں دیکھتا۔

ایردوان نے کہا، "ہم اپنے وطن کا دفاع کرنے والے حماس کے مزاحمت کاروں کو قابضین کے زمرے میں نہیں رکھ سکتے۔"

ایردوان نے کہا، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کا مستقل حل 1967 کی سرحدوں پر مبنی فلسطینی ریاست کی تشکیل پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم سمجھتے ہیں کہ ایک بین الاقوامی امن کانفرنس اس کے لیے موزوں ترین بنیاد فراہم کرے گی۔ ہم اس تناظر میں قائم ہونے والے امن کے تحفظ کے لیے ضروری کوششیں بشمول ایک ضامن کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔"

ایردوان نے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، اسرائیل کے غزہ پر ایٹمی حملہ کرنے کے خیال پر اسرائیل کے ہیریٹیج وزیر امیہ الیاہو نے جو تبصرہ کیا، اس سے اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

ایردوان نے کہا، "اگر ایسے جوہری بم ہیں جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانچ سے چھپائے گئے تو انہیں بھی ظاہر کیا جانا چاہیے"۔

اسرائیل علانیہ طور پر یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں حالانکہ فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کا اندازہ ہے کہ اسرائیل کے پاس تقریباً 90 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے الیاہو کو ان کے تبصرے کے بعد "تا حکمِ ثانی" کابینہ کے اجلاسوں سے معطل کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں