حماس نے غزہ میں جو کیا وہ پیرس میں اسے دہرائے گی: نیتن یاہو میکروں سے ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں نے غزہ میں خواتین اور بچوں کے قتل عام کی مذمت کرکے اسرائیلی قیادت کی سخت ناراضی مول لی ہےکیونکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے فرانسیسی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

فرانسیسی صدر کی غزہ میں معصوم شہریوں کے قتل پر تنقید کے چند گھنٹوں کے اندر اندر نیتن یاھو نے جوابی تنقید کی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ کی آبادی کے مستقبل کی ذمہ داری اسرائیل پرنہیں صرف حماس پرعاید ہوتی ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے اس کے حوالے سے بتایا ہے کہ کل رات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" (سابقہ ٹویٹر) پر شائع ہونے والے ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ "غزہ کی پٹی میں عام شہریوں کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری حماس عائد ہوتی ہے، اسرائیل پر نہیں "۔

انہوں نے کہا کہ "حماس نے غزہ میں جو کچھ کیا وہ اسے پیرس اور نیویارک میں دہرائے گی"۔

"حماس اور داعش"

اپنے بیان میں نیتن یاھو نے "حماس" اور "داعش" کو ایک جیسی قوتیں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے اسرائیل پر حملہ کرکے ’داعش‘ کے جرائم جیسا جرم کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آئیے یاد رکھیں کہ اسرائیل جنگ میں داخل ہوا کیونکہ دہشت گرد تنظیم نے سیکڑوں اسرائیلیوں کوبے دردی سے ہلاک کیا اور 200 سے زیادہ اسرائیلیوں کو اغوا کرلیا"۔

نہتے لوگوں کا قتل

بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں میکروں نے جمعہ کی شام اسرائیل پر زور دیا کہ "وہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ "ہم اسرائیل کو اس کے درد کو سمجھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے ساتھ ہیں لیکن عام شہریوں پر بمباری جن میں بچے، بوڑھی خواتین اور نہتے شہری ہلاک ہوتے ہیں کو مارنے کا کوئی جواز نہیں‘‘۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ بندی کی طرف بڑھنے کے سوا کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔ جن لوگوں کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں انہیں قتل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

خیال رہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حیران کن حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف خوفناک جنگ شروع کر رکھی ہے۔ اس جنگ میں اب تک گیارہ ہزارسے زاید عام شہری شہید اور چھبیس ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں