سعودی میزبانی میں ’’غیر معمولی اسلامی عرب سمٹ‘‘ کا انعقاد، غزہ کی صورت حال مرکز نگاہ

مشترکہ اسلامی عرب سربراہی اجلاس غزہ میں رونما ہونے والے غیر معمولی حالات کے تناظر میں منعقد ہو رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے پیدا شدہ صورت حال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کے سربراہی اجلاس آج (ہفتے کو) سعودی عرب میں ہو رہے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق عرب رہنما اور ایرانی صدر سعودی دارالحکومت میں ملاقاتوں میں شرکت کریں گے، جس میں اسرائیل کی جنگ کو دیگر ممالک میں تشدد کے پھیلنے سے پہلے ختم کرنے کے مطالبے پر زور دیا جائے گا۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، جو سعودی عرب کا اپنا پہلا دورہ کر رہے ہیں، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں ان کی شرکت متوقع ہے۔

عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل کی فضائی اور زمینی کارروائیوں میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 11ہزار سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں۔

امدادی تنظیموں نے غزہ میں سیز فائر کی عالمی درخواستوں میں شامل ہو کر انسانی بنیادوں پر 'تباہی' کا انتباہ دیا ہے، جہاں خوراک، پانی اور ادویہ کی قلت ہے۔

عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل حسام ذکی نے رواں ہفتے کہا تھا کہ عرب لیگ کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ عرب جارحیت کو روکنے، فلسطین اور اس کے عوام کی حمایت کرنے، اسرائیلی قبضے کی مذمت کرنے اور اسے اس کے جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے بین الاقوامی منظر نامے پر کس طرح آگے بڑھیں گے۔

تاہم فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامک جہاد نے جمعے کو کہا کہ اسے اجلاس سے ’کوئی توقع‘ نہیں۔

تنظیم کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل محمد الہندی نے بیروت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس طرح کے اجلاسوں سے اپنی امیدیں وابستہ نہیں کر رہے کیونکہ ہم کئی سالوں سے ان کے نتائج دیکھے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ ’مشترکہ اسلامی عرب سربراہی اجلاس غزہ میں رونما ہونے والے غیر معمولی حالات کے تناظر میں منعقد ہو رہا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ مشترکہ اجلاس فلسطینی غزہ کی پٹی میں رونما ہونے والے غیر معمولی حالات کے ردعمل میں منعقد کیا جائے گا کیونکہ ممالک کو متحد کوششوں اور متحدہ اجتماعی موقف کے ساتھ سامنے آنے کی ضرورت ہے۔‘

بیان کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ سعودی عرب نے مسلسل مقبوضہ علاقوں میں خونریزی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی-افریقی سربراہی اجلاس میں جمعے کو اپنے ابتدائی کلمات میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کی طرف سے’ غزہ میں اسرائیلی قابض حکام کی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی مذمت‘ کا اعادہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں