فلسطینی بچوں اور خواتین قیدیوں کے بدلے 100 اسرائیلی یرغمالی رہا کرنے پر اتفاق

اسرائیلی قیدی بچوں اور خواتین کو رہا کیا جائے گا، قطر اور امریکہ نے ثالثی کی: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

’’العربیہ‘‘نے جمعہ کے روز بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کے معاملے پر کئی دنوں تک عارضی مذاکرات کے بعد حماس اور اسرائیل کے درمیان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

ذرائع نے حماس کے زیر حراست 100 خواتین قیدیوں اور بچوں کے بدلے اسرائیل کے زیر حراست فلسطینی خواتین قیدیوں اور بچوں کو رہا کرنے کے معاہدے کی تصدیق کی۔ بدلے میں اسرائیلی حکام نے اسرائیلی چینل 13 کو بتایا کہ ان کا ملک قیدیوں کے تبادلے کے وسیع معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے رابطے جاری ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے امریکی- قطری ثالثی کے تحت پیش قدمی کی گئی ہے۔ دوسری جانب تحریک حماس کے ایک رہنما نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کو رہا کیے بغیر یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہو گی۔

حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے مصری اور قطری کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ یہ معلومات کثیر الجہتی بات چیت اور کوششوں کے طور پر سامنے آئی ہیں جس میں قطر ایک اہم ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ بات چیت ہفتوں سے جاری ہے جس میں اب تک بہت سے خیالات سامنے آئے ہیں۔ جن میں ایک دن کے لیے جنگ بندی کے بدلے میں تقریباً 10 سے 15 یرغمالیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

تاہم دو روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کو مسترد کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی تک جنگ بندی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا اس کے سوا باقی سب کچھ بے کار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں