انسانی حقوق کی تین تنظیموں کا اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت سے رجوع

اسرائیل، جنگی جرائم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہے: انسانی حقوق تنظیموں کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم تین تنظیموں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کی جائے۔ درخواست میں اسرائیل کو زیر محاصرہ شہریوں پر بمباری کرنے، فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے اور جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

تاہم اس بارے میں بین الاقوامی عدالت کی طرف سے ابھی صرف اتنا کہا گیا ہے کہ اسے تین انسانی حقوق تنظیموں کی طرف سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا ہے اور ان کی درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسرائیل جس نے غزہ میں 24 لاکھ کی آبادی کا محاصرہ کر رکھا ہے ایک ماہ سے زائد عرصے سے مسلسل غزہ کی شہری آبادی، تعلیمی اداروں، مسجدوں، گرجا گھروں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنا رہا ہے کو ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھی بین الاقوامی قوانین کی بد ترین خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا جرم کرنے والا کہا ہے۔

اس کے علاوہ درجنوں ملکوں نے بھی اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر آوز اٹھائی گئی ہے۔ جب کہ دنیا کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں جہاں جہاں انسانی حقوق کے کچھ زبانی ہی سہی معنی موجود ہیں ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں عوام نے اسرائیلی بمباری ومحاصرے کے خلاف احتجاج کر کے اپنی حکومتوں، عالمی برداری اور عالمی اداروں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔

اہم بات ہے کہ تمام بڑے ممالک اور عالمی طاقتیں جن انسانی حقوق، بچوں کے حقوق، عورتوں کے حقوق اور صحافتی آزادی کے ساتھ ساتھ اظہار رائے کی آزادی کے معاملے میں کوتاہیوں پر کمزور ملکوں کے خلاف رپورٹیں شائع کرتی ہیں، ان کے خلاف پابندیاں لگاتی ہین اور اقوام متحدہ کے تعاون سے انہیں دنیا میں تنہا کر کے رکھ دیتی ہیں۔ اسرائیل کے بارے میں ایسی بے حسی کی پٹی اپنی آنکھوں پر باندھے ہوئے ہیں۔

نہیں لگتا کہ آئندہ ان کے اس طرح کے اعلی انسانی اقدار سے متعلق دعووں کو عالمی برادری مذاق سے کچھ زیادہ سمجھ سکے گی۔ یہ ملک اپنے عوام کی بھی اس بارے میں بات سننے کو تیار نہیں۔ تاہم ان کے دارالحکومتوں میں شہری برسر احتجاج ہیں۔

حتیٰ کہ برطانیہ، سپین اور بیلجئیم کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کو بھی اس وجہ سے عوامی رد عمل کے ساتھ ساتھ اپنی ٹریڈ یونینوں کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ ان فیکٹریوں کا اسلحہ اسرائیل استعمال کر کے فلسطینیوں کی جانیں لے رہا ہے۔

یاد رہے اب تک زیر محاصرہ غزہ کے گنجان آباد شہر میں گیارہ سے باراں ہزار عام شہری اسرائیل نے ہلاک کر دیے ہیں۔ ان میں ساڑھے چار ہزار اور پانچ ہزار کے درمیان کم سن فلسطینی بچے اور تین سے چار ہزار کے قریب فلسطینی عورتیں شامل ہیں۔

لیکن اسرائیل کی طرف سے مسلسل جاری اس فلسطینی نسل کشی کو چونکہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایسے بڑے ملکوں کی حمایت اور مدد میسر ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ اپنی آنکھوں کے سامنے حقیقتاً ایک 'ہولو کاسٹ' کا اسرائیل کو مرتکب ہوتا دیکھ کر بھی اسے ان جرائم سے روکنے میں کامیاب نہیں ہیں۔

ادھر اسرائیل جو گذشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام کو اپنے جبر اور ظلم کا نشانہ بناتا چلا آیا یے اس نے عالمی فوجداری عدالت کی رکنیت لی ہے نہ اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم کیا ہے، اس وجہ سے بھی ماہرین کے خیال میں اس کے خلاف کارروائی کا یہ ادارے بس سوچ کر ہی رہ جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے کے سربراہ اور خود سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس ایک سے زائد بار اسرائیلی بمباری کے خلاف بیانات دے چکے ہیں اور جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ لیکن امریکہ و برطانیہ اور فرانس بھی چونکہ جنگ بندی نہ کرنے کے موقف کے ساتھ پوری ڈھٹائی سے کھڑے ہیں اس لیے اقوام متحدہ عملاً بے اثر ہے۔

تاہم آئی سی سی ' نے بتایا ہے کہ تینوں انسانی حقوق تنظیمیں ۔ الحق، المیزان اور فلسطینی انسانی حقوق مہم کی طرف سے رابطہ ہوا، ان کی درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے اس بارے میں ابھی کوئی نیا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی خاندانوں نے حماس کے خلاف بھی ' آئی سی سی' سے رابطہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں