’تنقید ممنوع ہے‘ فلسطینی بچے کی وجہ سے امریکا اور اسرائیل میں تنازعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں اسرائیلی سفارت خانے نے امریکی وزارت خارجہ کے دفتر کے لیے ایک غیر معمولی عوامی سرزنش جاری کی جو فلسطینی امور سے متعلق ہے۔ یہ تنقید اسرائیل کے یروشلم میں ایک فلسطینی مکان کے انہدام پر امریکی تنقید کے بعد سامنے آئی ہے۔۔

سرزنش!

امریکی آفس برائے فلسطینی امور نے ایکس ویب سائٹ پر پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل کی حکومت نے 13 سالہ فلسطینی بچے کی کارروائی کے جواب میں فلسطینی خاندان کے گھر کو مسمار کردیا ہے۔

امریکا نے مزید کہا کہ ایک فرد کے اقدامات کی وجہ سے ایک پورے خاندان کو اپنا گھر نہیں کھونا چاہیئے۔

جمعہ کے روز اسرائیلی سفارت خانے نے جواب دیا کہ "کہانی کا سیاق و سباق اہم ہے "۔ 13 سالہ ایک "دہشت گرد" نے اسرائیلی شہری کو موت کے گھاٹ اتار کر ہلاک کیا۔

دونوں فریقوں میں سے کسی نے بھی اس نوعمر کے نام کا ذکر نہیں کیا لیکن اسرائیلی میڈیا اسے محمد الزالبانی کے نام سے جانتا ہے، جس نے کہا تھا کہ انہوں نے گذشتہ فروری میں مشرقی یروشلم میں ایک بس کی تلاش کے دوران ایک اسرائیلی سرحدی پولیس اہلکار کو چھرا گھونپا تھا۔

اگرچہ سوشل میڈیا صارفیں نے اس تنازعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تنقید اسرائیل کے نقطہ نظر سے ممنوع ہے۔

یہ قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ بدھ کو پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں مشرقی یروشلم کے شعفات پناہ گزین کیمپ میں گھر کو مسمار کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں