"حماس کامیاب ہوگئی" اسرائیل کو رد عمل میں ہر ممکن نرمی برتنا چاہیے: ایلون مسک

وہ اسرائیلی رد عمل کو اکسا کر رد عمل میں مسلمانوں کو فلسطین کے لیے نکالنا چاہتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جو روگن کے شو کے دوران اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان 35 دنوں سے جاری خونریز لڑائی کے متعلق ایک عجیب مذاق پر شدید تنقید کے بعد ارب پتی ایلون مسک نے دوبارہ جنگ پر بات کی ہے۔ امریکہ میں مقیم مشہور براڈکاسٹر لیکس فریڈمین کو انٹرویو دیتے ہوئے مسک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق ہر چیز کے بارے میں کوئی آسان جواب نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا میری قطعی رائے میں حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا کیونکہ انہیں (حماس کو) فوجی فتح حاصل کرنے کی امید نہیں تھی۔ ٹیسلا کے سی ای او نے مزید کہا کہ وہ حقیقت میں بدترین ممکنہ مظالم کا ارتکاب کرنا چاہتے تھے تاکہ ایک بڑے جارحانہ اسرائیلی ردعمل کو اکسایا جا سکے اور اسرائیل کے اس ردعمل کا فائدہ اٹھا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو غزہ اور فلسطین کے لیے نکالا جا سکے۔ وہ حقیقت میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

تاہم ان کا خیال تھا کہ اسرائیل کو ہر ممکن مہربانی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کے اصول پر عمل کرنے سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ مسک نے حیرت کا اظہار کیا کہ حماس کے ہر رکن کے لیے جسے اسرائیل نے مارا اس نے کتنے اور بنائے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل غزہ میں کچھ لوگوں کے بچوں کو مارتا ہے تو اس سے زیادہ غصہ پیدا ہوگا اور شاید طویل مدت میں دہشت گردی ہو گی۔

مسک نے اشارہ دیا کہ اسرائیلی افواج کو یا تو حماس کے ارکان کو قتل کرنا چاہیے یا انہیں قید کرنا چاہیے۔ مسک نے غزہ میں امداد پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا۔

مسک کو حال ہی میں تنقید کی ایک لہر کا نشانہ بنایا گیا تھا جب غزہ میں جاری جنگ کے بارے میں بہت سی گمراہ کن معلومات ایکس پلیٹ فارم پر پھیلائی گئی تھیں۔ بعد میں انہوں نے تصدیق کی کہ وہ اس طرح کی خبروں کے پھیلاؤ کو زیادہ سے زیادہ محدود کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں