زیر حراست دو برازیلی شہریوں نے تخریبی کارروائیوں کی تیاری کا الزام مسترد کر دیا

'لبنانی حزب اللہ کے ساتھ مل کر کارروائیوں کی تیاری میں مصروف تھے۔ 'الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برازیل کے دو زیر حراست شہریوں نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ملک کے اندر کسی تحریب کاری کی تیاری کر رہے تھے۔ ان دونوں شہریوں کو اسی ہفتے کے شروع میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ وہ لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ مل کر ملک کے اندر اسرائیلی اہداف کے خلاف کارروائیوں کی تیار کے لیے بروئے کار تھے، دونوں زیر حراست افراد کی عمر تیس سال کے لگ بھگ ہے۔

تاہم دونوں نے اس الزام کو بالکل فضول اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی موساد نے حزب اللہ کے سیل کا خاتمہ کرنے میں برازیل کی مدد کی ہے۔

ان زیر حراست لیے گئے مشتبہ افراد میں سے ایک نے کہا ' میرے ساتھ مجرم اور ایک دہشت گرد والا سلوک کیا گیا ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہوں، اس شخص کا رہائشی تعلق سانتا کیترینا کی ریاست سے بتایا گیا ہے لیکن اس کا نام یا باقی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

برازیل میں بدھ کے روز سیکیورٹی اہلکاروں نے برازیل میں کئی جگہ چھاپے مارے تاکہ تخریب کاری کے لیے ممکنہ تیاری کو روک سکے۔ پولیس کے مطابق اس کے پاس پکے شواہد تھے کی برازیل میں انتہا پسندانہ سرگرمیوں کے لیے بھرتی کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی موساد نے کہا ہے کہ اس نے برازیلین سیکیورٹی سروسز اور دوسرے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے کام کیا ہے۔ تاکہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کی کارروائیوں میں رکاوٹ بنے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں