غزہ میں اسرائیلی فوج نے ہسپتالوں کا محاصرہ کرلیا، الشفا ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں ہسپتالوں کے اطراف لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جنگ کو شروع ہوئے 36 روز مکمل ہوگئے ہیں۔ اس وقت اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں موجود ہسپتالوں کا گھیراؤ کرلیا ہے۔ الشفا ہسپتال میں آکسیجن کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنا پر بڑی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں۔ ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔

الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ کمپلیکس کے اندر لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ یہ صورت حال زخمیوں کو بچانے میں ناکامی کی نشاندہی کر رہی ہے۔ الشفا ہسپتال کے قرب و جوار میں جھڑپیں جاری ہیں۔

’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ الشفاء ہسپتال کے اطراف میں جھڑپیں جاری ہیں اور اسرائیلی ٹینک الشفاء کمپلیکس کے ارد گرد کے علاقے کے شمالی حصے سے 200 میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ ہسپتال کے ارد گرد حملے کئے جارہے ہیں۔ انڈونیشیا ہسپتال کے اطراف بھی صہیونی فوج موجود ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ الشفا ہسپتال کے آس پاس میں حماس کے بندوق برداروں کے ساتھ جھڑپ کر رہی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ الشفا کمپلیکس کا مشرقی حصہ ہر اس شخص کے لیے کھلا ہے جو وہاں سے نکلنا چاہتا ہے۔

دریں اثنا فلسطینی ہلال احمر نے بتایا ہے کہ بیت لاھیا کے القدس ۃسپتال سے ٹینک 20 میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔ ہسپتال میں براہ راست فائرنگ ہو رہی ہے۔ بے گھر افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

شمالی غزہ میں ہسپتالوں کی ناکہ بندی

العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں نے شمالی غزہ کے ہسپتالوں بالخصوص الشفاء ہسپتال اور الرنتیسی ہسپتال اور القدس ہسپتال کا مکمل محاصرہ کرلیا ہے۔ النصر کالونی، تل الھوا، اور الشاطی کیمپ میں پرتشدد جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

صحافی خضر الزعنون نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے الشفا ہسپتال میں پانی کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل ہ سپتالوں اور ان کے اطراف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے۔ غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کے ڈائریکٹر جنرل محمد زقوت نے کہا تھا کہ الشفا میڈیکل کمپلیکس کی بجلی منقطع ہونے اور اس کا ایندھن مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد ہسپتال کی سروس بند ہوگئی ہے۔ اسرائیلی فوج ہسپتال کو مکمل طور پر گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ اسرائیلی فوج دنیا کے سامنے ہسپتال کے سامنے فلسطینیوں کو مار رہی ہے اور کوئی انگلی تک نہیں اٹھا رہا۔

39 شیر خوار بچوں کی جان کو خطرہ

فلسطینی خاتون وزیر صحت ’’می الکیلہ‘‘ نے اعلان کیا کہ الشفا ہسپتال میں ایندھن کی کمی اور آکسیجن کی عدم دستیابی کے باعث کم از کم 39 شیر خوار بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔ انتہائی نگہداشت وارڈ میں موجود 39 نوزائیدہ بچے کسی بھی لمحے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ ایک نومولود ہفتہ کی صبح جاں بحق بھی ہوگیا۔

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ پٹی کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد آج آپریشن روک دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں