22 ملکوں کے تنازعات میں مرنیوالے بچوں سے زیادہ بچے غزہ میں جاں بحق ہوچکے: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ESCWA) کے ایگزیکٹو سیکرٹری رولا دشتی نے اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ صرف 4 ہفتوں کے عرصے کے دوران غزہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد کا تخمینہ 4300 لگایا گیا ہے۔ یہ 2020 کے بعد سے کسی بھی سال میں 22 ملکوں میں مسلح تنازعات میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں اوسطاً ہر 10 منٹ میں ایک بچہ مارا جا رہا ہے۔ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے اور وہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے نصف اور بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے دو تہائی مراکز نے کام کرنا بند کردیا ہے۔ صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

ہسپتال کی راہداری زخمیوں، بیماروں اور مرنے والوں سے بھری ہوئی ہے۔ مردہ خانے بھرے ہوئے ہیں۔ بے ہوشی کے بغیر سرجیکل آپریشنز کئے جا رہے ہیں۔ ۔ دسیوں ہزار بے گھر افراد نے ہسپتالوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

یاد رہے 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا تھا۔ حماس کے ارکان 1948 کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں جنہیں اسرائیلی علاقے بھی کہا جاتا ہے میں گھس گئے تھے۔ حماس کے جنگجوؤں نے 1400 کے لگ بھگ اسرائیلیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق حماس نے 1400 نہیں بلکہ 1200 اسرائیلیوں کو موت سے ہم کنار کیا تھا۔

اس کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری شروع ہوگئی تھی اور 36 روز میں 11000 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں