اسرائیل پرغزہ میں سوچے سمجھے قتل عام کا الزام نہیں لگایا: میکروں اپنے بیان سے مکر گئے

فرانسیسی صدرکا اپنے اسرائیلی ہم منصب کو فون، غزہ میں جاری جنگ میں شہریوں کے قتل عام سے متعلق اپنے موقف کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے اپنے اسرائیلی ہم منصب اسحاق ہرزوگ سے فون پر بات چیت کی جس میں انہوں نے ’بی بی سی‘ کو دیے گئے انٹرویو میں غزہ میں جنگ بندی پر زور دینے اور نہتے شہریوں کے قتل عام کی روک تھام کے مطالبے کے موقف کی وضاحت کی۔

اسرائیلی ایوان صدر کے مطابق فرانسیسی صدر نے وضاحت کی کہ وہ اسرائیل پر غزہ میں شہریوں کو سوچے سمجھے منصوبے سے قتل کرنے یا انہیں نقصان پہنچانے کا الزام نہیں لگاتے۔

اتوار کو اسرائیلی ایوان صدر نے اعلان کیا کہ میکروں نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر غزہ میں شہریوں کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کا الزام نہیں لگایا۔

اسرائیلی ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اسحاق ہرزوگ نے فرانسیسی صدر کے وضاحتی بیان کا خیر مقدم کیا۔

نیتن یاہو اور عمانویل میکروں
نیتن یاہو اور عمانویل میکروں

جمعے کی شام ’بی بی سی‘ کے ذریعے نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں میکروں نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ پر عام شہریوں پر بمباری بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ "حقیقت میں آج یہاں عام شہریوں پر بمباری کی جا رہی ہے۔ یہ بچے، یہ عورتیں، بوڑھے عام شہری بمباری سے مررہے ہیں‘‘۔

اسرائیلی ایوان صدر نے کہا کہ "میکروں نے واضح کیا کہ ان کا اسرائیل پر دہشت گرد تنظیم حماس کے خلاف مہم کے ایک حصے کے طور پر جان بوجھ کر معصوم شہریوں کو نقصان پہنچانے کا الزام لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے"۔

فرانسیسی صدر نے وضاحت کی کہ بی بی سی ان کی گفتگو "انسانی صورتحال سے متعلق تھی، جو ان کے لیے اور بہت سے ممالک کے لیے ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔" اسی ذریعے کے مطابق انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق اور فرض کی واضح حمایت کرتے ہیں اور اس جنگ کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہیں‘‘۔

اسرائیلی ایوان صدر نے کہا کہ فرانسیسی صدر میکروں کے بیانات "اسرائیل میں بہت تشویش او تکلیف کا باعث بنے۔" اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران اسے "حقائق اور اخلاقی پوزیشن کے لحاظ سے غلط" قرار دیا تھا۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری اسرائیل پر نہیں بلکہ حماس پر عائد کی جانی چاہیے"۔

میکروں نے "اسرائیل کے اپنے حق دفاع" اور "دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے ساتھ فرانس کی یکجہتی کی حمایت کی اور کہا کہ یہ جنگ ایک بار پھر بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اور شہری آبادی کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں