اقوامِ متحدہ کی غزہ میں ہلاک شدہ عملے کے 101 ارکان کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوامِ متحدہ کے کارکنان نے پیر کو غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاک ہونے والے 100 سے زائد ملازمین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جبکہ اقوام متحدہ کے پرچم سرنگوں رہے۔

اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی کے 101 ملازمین غزہ پر اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے جن کی یاد میں شمعیں روشن کرتے ہوئے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے عملے نے سر جھکا لیا۔

جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی ڈائریکٹر جنرل تاتیانا والوایا نے کہا، "یہ ہماری تنظیم کی تاریخ میں اتنے کم وقت میں ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔"

"اس انتہائی علامتی مقام پر متحد اپنے ان بہادر ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہم آج یہاں جمع ہوئے ہیں جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔"

یو این آر ڈبلیو اے نے کہا ہے کہ عملے کے کچھ ارکان روٹی کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے ہوئے جبکہ دیگر اسرائیل کی فضائی اور زمینی جنگ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئے جو 7 اکتوبر کو عسکریت پسند گروپ کے سرحد پار حملے کے جواب میں اسرائیل نے کیے۔

غزہ کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے امدادی کارکنوں کے لیے اگلا مہلک ترین تنازعہ 2011 میں نائجیریا کا تھا جب ایک خودکش بمبار نے شورش کے دوران ان کے ابوجا کے دفتر پر حملہ کیا جس میں 46 افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیل نے حماس کو گنجان آبادی والے غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گروپ آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ حماس اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔

والوایا نے کہا۔ "میں یہ کہنا چاہوں گی کہ ہم دنیا کے لیے کثیرالجہتی کے لیے واقعی بہت مشکل وقت کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ پہلے سے کہیں زیادہ متعلقہ ہے۔"

اولین عرب-اسرائیل جنگ کے بعد 1949 میں قائم کیا گیا یو این آر ڈبلیو اے اسکولوں، صحت کی نگہداشت اور امداد سمیت عوامی خدمات فراہم کرتا ہے۔ غزہ میں کام کرنے والے یو این آر ڈبلیو اے کے 5000 عملے میں سے بہت سے خود فلسطینی پناہ گزین ہیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں