امریکہ ہسپتالوں میں آتشیں جنگ نہیں چاہتا: جیک سلیوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں جس طرح سب جانتے ہیں کہ ہسپتالوں کی بڑی تعداد پہلے ہی بمباری سے تباہ یا بد ترین ناکہ بندی کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں۔ اب بچے کھچے ہسپتال زیر محاصرہ ہیں۔ جبکہ ان کے گردو پیش میں آتش وآہن کی بارش کا منظر ہے۔ اس تناظر میں امریکی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بتایا ہے کہ' امریکہ ہسپتالوں کے اندر تک آگ کی لڑائی نہیں دیکھنا چاہتا اس لیے یہ بات اسرائیلی افواج کو بھی بتا دی گئی ہے۔

جیک سلیوان نے غزہ میں مسلسل تباہی پھیلانے والی جنگ کا چھٹا ہفتہ شروع ہونے پر 'سی بی ایس نیوز ' کے ساتھ اس امریکی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اب تک گیارہ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ہسپتالوں پر بمباری سے بھی سینکڑوں جاں بحق ہو چکے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ ہسپتالوں کے اندر اور باہر لاشوں کے ڈھیر لگے ہیں لیکن ان کی تدفین کے لیے کوئی دستیاب نہیں۔

جیک سلیوان کا کہنا تھا ' ریاست ہائے امریکہ نہیں چاہتا کہ ہسپتالوں کے اندر تک آتشیں لڑائی دیکھے، جہاں معصوم لوگ ہیں ، مریضوں کو طبی سہولیات دی جارہی ہیں، وہ اس دو طرفہ لڑائی میں پھنس گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری اسرائیلی فورسز کے ساتھ باضابطہ مشاورت بھی ہو چکی ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج نے ایک روز قبل یہ کہا تھا کہ وہ ہسپتالوں سے نومولود بچوں کو غزہ کے ان ہسپتالوں سے نکال کر کسی محفوظ تر ہسپتال میں پہنچانے کو تیار ہے۔ تاہم فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں ابھی وہی صورت حال ہے اور لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ دو نومولود بچے بجلی کا نظام ختم ہو جانے اور ایندھن دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ مزید کی جانوں کو خطرہ ہے۔

جاری جنگ میں اسرائیلی فورسز نے مسلسل الشفا ہسپتال سمیت غزہ کے دوسرے ہسپتالوں کو اپنے ' فوکس ' میں رکھا ہے۔ اسرائیلی فورسز کی کوشش حماس کا مکمل خاتمہ ہے اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے ہسپتاوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی کی ہر روز صبح شام ہونے والے بمباری سے زخمیوں شہریوں کی ہسپتالوں کو آنے والی بہت بڑی تعداد کو ہسپتال سنبھالنے سے قاصر ہیں۔

سلیوان نے کھلے ذرائع کی کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ' حماس ہسپتالوں کو استعمال کر رہی ہے۔ جیسا کہ دوسری شہری سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اپنی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت اسلحہ جمع بھی کرتی ہے۔ 'سلیوان کے مطابق جنگی قانون کی خلاف ورزی ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں