سابق وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی بطور وزیرِ خارجہ برطانیہ کی حکومت میں واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

برطانیہ کے سابق رہنما ڈیوڈ کیمرون سنسنی خیز طور پر پیر کو برطانوی حکومت میں سیکریٹری خارجہ کے طور پر واپس آ گئے جب وزیرِ اعظم رشی سوناک نے اگلے سال متوقع عام انتخابات سے قبل اپنی اعلیٰ ٹیم کو ہلا کر رکھ دیا۔

سنک نے دائیں بازو کی سویلا بریورمین کو وزیرِ داخلہ کے عہدے سے برطرف کر دیا جب ناقدین نے ان پر برطانیہ میں کئی ہفتوں کے متنازعہ فلسطینی حامی مظاہروں اور جوابی مظاہروں کے دوران تناؤ بڑھانے کا الزام لگایا۔

کیمرون کو حیرت انگیز طور پر کلیورلی کی جگہ لانے کا اعلان کرنے سے پہلے سنک نے بریورمین کی جگہ جیمز کلیورلی کو سیکریٹری داخلہ بنا دیا جو سیکرٹری خارجہ رہ چکے ہیں۔

57 سالہ کیمرون نے بریگزٹ ریفرنڈم میں شکست کے بعد 2016 میں وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ اسی سال رکن اسمبلی کے عہدے سے دستبردار ہو گئے تھے۔

وہ 2021 میں برطانیہ کی حکومت سے فنانس گروپ گرینسل کیپیٹل کے لیے لابنگ کرنے کے بعد سکینڈل میں پھنس گئے۔ گرینسل بعد میں ختم ہوگئی اور یہ واقعہ ان کی شہرت کو بری طرح داغدار کرنے کا سبب بن گیا۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اعلان کیا کہ کیمرون کو برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا دار الامراء میں لائف پیئر بنایا جائے گا جس کا مطلب ہے کہ وہ حکومت میں بیٹھ سکتے ہیں۔

سابق رہنما نے کہا انہوں نے اس کردار کو "بخوشی قبول کیا" کیونکہ برطانیہ کو "مشکل بین الاقوامی چیلنجوں" کا سامنا ہے۔

کیمرون نے مزید کہا۔ "جبکہ میں گذشتہ سات سالوں سے صف اول کی سیاست سے باہر ہوں مگر امید ہے کہ ان اہم چیلنجوں سے نمٹنے میں وزیرِ اعظم کی مدد کرنے میں میرا تجربہ -- بطور کنزرویٹو رہنما 11 سال اور چھے سال بطور وزیر اعظم – معاون ہو گا۔

'بیتاب'

اپنی برطرفی کے بعد بریورمین نے کہا، "بطور سکریٹری داخلہ خدمات کی انجام دہی میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "مناسب وقت پر میں مزید کچھ کہوں گی۔"

گذشتہ سال اکتوبر میں ملک کا سربراہ بننے کے بعد سے یہ تبدیلیاں سنک کے اعلیٰ وزراء کی ٹیم میں پہلی بڑی تبدیلی کا حصہ ہیں۔

تقریباً 14 سالوں سے برسرِ اقتدار کنزرویٹوز نے کہا یہ تبدیلیاں "حکومت میں ان کی ٹیم کو ایک روشن مستقبل کے لیے طویل مدتی فیصلے کرنے کے لیے مضبوط کرتی ہیں۔"

دن بھر اعلان کے لیے تیار ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ وفاداروں اور نوجوان ابھرتے ہوئے ایم پیز کو بھی نوازیں گے کیونکہ پارٹی مقبولیت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

کیمرون کی غیر متوقع واپسی نے ان لوگوں کو بھی حیران کر دیا جو برطانوی سیاست پر روزانہ تبصرہ کرتے ہیں اور ان کے نزدیگ یہ تبدیلی اگلے عام انتخابات کو مضبوطی سے ذہن میں رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

قدامت پسندوں نے سنک کے اقتدار کے دوران مرکزی لیبر اپوزیشن کو دوہرے ہندسوں کے مارجن سے شکست دی ہے اور ان کے بڑے پیمانے پر اگلے سال ہونے والا مقابلہ ہارنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

اگرچہ ان کا اعلیٰ پروفائل اور دنیا کے طول و عرض میں روابط ہیں لیکن کیمرون کی تقرری ووٹ کے حصول میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتی۔

ستمبر میں ہونے والی رائے شماری نے ظاہر کیا کہ برطانیہ کے 45 فیصد بالغان ان کے مخالف تھے جبکہ صرف ایک چوتھائی افراد کی ان کے بارے میں مثبت رائے تھی۔

لندن کی کوئین میری یونیورسٹی میں سیاست کے پروفیسر ٹم بیل نے کہا کہ سنک ممکنہ طور پر کیمرون کے "بین الاقوامی اسٹیج پر اثر و رسوخ" کی طرف راغب ہوئے اور امید تھی کہ وہ بڑھتے ہوئے غیر مطمئن اعتدال پسندوں اور مرکزی دائیں بازو کے ووٹرز کو متأثر کریں گے۔"

انہوں نے نوٹ کیا۔ "مجھے بہت زیادہ شک ہے کہ اس سے اُس یا کسی دوسرے اسکور پر بہت فرق پڑے گا۔ یہ شدید مایوس لگ رہا ہے -- کیوںکہ یہ وہی ہے جو ہے۔"

'ٹوفو کھانے والا وکراتی'

بریورمین نے اپنے پورے دور میں تنازعات پیدا کیے بالخصوص امیگریشن پر سخت گیر مؤقف اختیار کیا اور باقاعدگی سے نام نہاد ثقافتی جنگوں کے مسائل میں شامل ہوئیں جنہیں ووٹرز کو تقسیم کرنے والے عوامل سمجھا جاتا ہے۔

لیکن ان کی پوزیشن اس وقت تیزی سے غیر مستحکم ہو گئی جب انہوں نے گذشتہ ہفتے سنک کی منظوری کے بغیر ایک دھماکہ خیز اخباری مضمون لکھا جس میں پولیس پر بائیں بازو کی تحریکوں کے حوالے سے تعصب کا الزام لگایا گیا۔

غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے مظاہروں کے اختتام ہفتہ سے پہلے تناؤ پیدا کرنے کا الزام اس مضمون کو دیا گیا اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ مظاہرہ یومِ جنگ بندی کی تقریبات کے دن ہونا تھا۔

ناقدین کا خیال تھا کہ ان کے تبصروں نے انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین کو ہفتے کے روز مرکزی مارچ کے موقع پر جوابی مظاہرے کرنے کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں درجنوں گرفتاریاں ہوئیں۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اس بات کی تحقیقات شروع کر دیں کہ مضمون کو اس کی رضامندی کے بغیر کیسے شائع کیا گیا جس کے لیے وزارتی ضابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بریورمین کے تبصرے کو بھی اس نظر سے دیکھا گیا گویا انہوں نے خود کو قدامت پسندوں کی مستقبل کی رہنما کے طور پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہو۔

یہ تبصرے اس وقت آئے جب انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی ریلیوں کو "نفرت مارچ" کے طور پر بیان کیا جس سے کچھ دن قبل یہ دعویٰ کیا گیا کہ کچھ لوگ "اپنی مرضی کی زندگی گذرانے کے لیے" بےگھر ہوئے۔

دائیں بازو کی اس خاتون نے اپنے ناقدین پر لبرل "ٹوفو کھانے والے وکراتی" کہہ کر حملہ کیا ہے جبکہ اپنی تقرری کے فوراً بعد انہوں نے کہا کہ پناہ کے متلاشی افراد کو روانڈا بھیجنا ان کا "خواب" اور "جنون" تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں