مصری ٹی وی اینکرکی اسرائیلی بمباری کی مخالفت،امکانی طورپربرطانوی ویزامنسوخ ہونےکاخدشہ

ویزا منسوخی پر وہ پہلے غیر ملکی ہو سکتے ہیں۔ جنہیں 'فلسطین کاز' کی حمایت کی سزا ملے گی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ نے اپنے ہاں اسرائیل کے فلسطین پر قبضے، جنگی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف بڑھے ہوئے غم وغصہ اور فلسطینیوں کے لیے اظہار یکجہتی کی روک تھام کے لیے نئے فیصلوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ میں مقیم جلاوطن ٹی وی اینکر معتز مطار برطانوی فیصلے کی زد میں آنے والے ابتدائی لوگوں میں سے ایک ہوں گے۔

کیونکہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ ان نصف درجن افراد میں سے ہیں جن کی فلسطین کے لیے بڑھی ہوئی حمایت کو حماس کی حمایت سمجھا جارہا ہے اور اس وجہ سے ان کا ویزا ختم کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات معروف برطانیہ اخبار ٹیلی گراف نے رپورٹ کی ہے۔ ٹیلیگراف نے اپنے ہفتے کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ مطار کو برطانیہ نے 'واچ لسٹ ' میں شامل کر لیا ہے ، کہ ان کے تبصرے اور تجزیے فلسطینی عسکریت پسندوں کی حمایت میں نظر آرہے ہیں۔ برطانیہ ان فلسطینی عسکریت گروپوں کو امریکہ اور اسرائیل کی طرح ہی دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

واضح رہے اسرائیل اور حماس کی جاری جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی ' ٹیلیگراف' نے بی بی سی لندن سے وابستہ عربی سیکشن کے صحافیوں کی رپورٹ کو بھی اسی انداز میں نمایاں کیا تھا کہ وہ عرب ہونے کے ناطے فلسطینیوں کے لیے تعصب ظاہر کر رہے ہیں۔ ٹیلی گراف کی اس رپورٹ کے بعد ہی عربی سیکشن بی بی سی کے عرب صحافیوں کے خلاف تحقیقیات شروع کر دی گئی تھیں۔

اب معروف ٹی وی سپورٹس پریزنٹر جن کے یوٹیوب پر 42 لاکھ سبسکرائبرز ہیں نے القاسم بریگیڈ کے شریک بانی فلسطینی عبدالحکیم حانینی کا حال ہی میں انٹرویو کیا تھا۔ عبدالحکیم حانینی نے نازی پارٹی کی حمایت کی تھی۔ اس نے مسلمانوں کے گلیوں میں نکل کر حماس کرنے کی بھی حمایت کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا 'سات اکتوبر کے واقعات تاریخی تھے، ایسے تاریخی اقدام کو ہمارے عرب اور مسلمانوں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا اور دشمن نے ایسے اقدام کو ہٹلر کے ہاتھوں ' ہولو کاسٹ' سے پہلے نہ دیکھا تھا۔ '

خیال رہے مطار نے مصر 2013 میں چھوڑا تھا ، وہ بار بار برطاانیہ آتے رہے ہیں، مگر اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ ' ٹلیگراف ' کی رپورٹ کے مطابق اب انہیں برطانوی سرحد کے اندر نہیں آنے دیا جائے گا۔

مطار کے ویزے کی منسوخی برطانوی حکومت کی کوششوں کا حصہ ہے جو غیر ملکیوں میں یہود مخالفت روکنے کے لے کیے جارہے ہیں۔ یہود مخالفت سات اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے بعد یورپ اور امریکہ سمیت ہر جگہ دیکھی جا رہی ہے۔

کیونکہ اسرائیلی بمباری سے غزہ میں تقریباً 12000 فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔ 33 ہزار کے قریب فلسطینی شہری زخمی ہیں۔ 15 لاکھ شہری غزہ میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بہت سے ہسپتال اور مسجدیں تک اسرائیلی بمبار سے مسمار اور تباہ ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں