نیپال میں 'ٹک ٹاک' پر پابندی لگادی گئی

'ٹک ٹاک' کی وجہ سے معاشرے میں انتشار اور ملکی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہورہے تھے، نیپالی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

نیپال میں 'سوشل میڈیا آؤٹ لیٹ ٹک ٹاک' پر پابندی لگادی گئی ہے۔ نیپالی حکومت نے یہ فیصلہ ملکی سلامتی کے لیے 'ٹک ٹاک' سے درپیش خطرے کی وجہ سے کیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق 'ٹک ٹاک' انتشار پھیلانے کا باعث بن رہا تھا۔

دنیا بھر میں بہت جلدی مقبول ہوجانے والے سوشل میڈیا آؤٹ لیٹ 'ٹک ٹاک' پر اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ پابندی لگ چکی ہے کہ اس کی وجہ سے مختلف معاشروں میں مختلف نوعیت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ تاہم اس کے صارفین کی تعداد ایک ارب تک پہنچ چکی ہے۔

نیپالی اتحادی جماعت 'کانگریس پارٹی' کے رہنما گگن تھاپا نے حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزادی اظہار پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔

نیپال میں 'ٹک ٹاک' پر لگائی گئی پابندی سے متعلق ویڈیوز بہت تھوڑے وقت میں جنگ کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ تاہم نیپالی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ریکھا شرما کا کہنا ہے کہ اس پابندی کو عملی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام تکنیکی عمل مکمل کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں