پولیس کے فلسطینیوں کے حامی مارچ سے نمٹنے پر تبصرہ کرنے پر برطانیہ کی بریورمین برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطینیوں کے حامی مارچ سے نمٹنے پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنانے کے نتیجے میں وزیرِ داخلہ سویلا بریورمین کو پیر کے روز برطرف کر دیا گیا جس کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم رشی سوناک نے اپنی حکومت میں اہم عہدوں پر ردوبدل کیا۔

ایک حکومتی ذریعے نے بتایا کہ حزبِ اختلاف کے قانون سازوں اور اپنی ہی حکمران کنزرویٹو پارٹی کے اراکین کی جانب سے بریورمین کو بے دخل کرنے کے لیے کہا گیا تو سنک نے اپنی وزیرِ داخلہ کے خلاف جاتے ہوئے ان سے "حکومت چھوڑنے" کے لیے کہا جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

بریورمین کی جگہ کلیورلی

پیر کو حکومتی ردوبدل میں وزیرِ خارجہ جیمز کلیورلی کو ملک کا نیا وزیرِ داخلہ نامزد کیا گیا ہے۔

برطانیہ کے سابق سیکرٹری خارجہ جیمز کلیورلی 21 جون 2023 کو لندن میں۔ (اے ایف پی)
برطانیہ کے سابق سیکرٹری خارجہ جیمز کلیورلی 21 جون 2023 کو لندن میں۔ (اے ایف پی)

کلیورلی نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں اپنے نئے عہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، "سیکریٹری داخلہ کے طور پر تقرری ایک اعزاز کی بات ہے۔ مقصد واضح ہے۔ میرا کام اس ملک کے لوگوں کو محفوظ رکھنا ہے۔"

سنک کی حکم عدولی کرنے پر بریورمین کی برطرفی کے بعد کلیورلی نے اپنا نیا کردار سنبھال لیا۔ بریورمین نے اپنے ایک مضمون میں پولیس پر احتجاجی مظاہرین کے ساتھ سلوک میں "دوہرا معیار" اپنانے کا الزام عائد کیا- یہ ایک ایسا نکتہ تھا جس سے حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی کے مطابق ہفتے کے روز فلسطینی حامی مظاہرے میں کشیدگی کو ہوا ملی۔

دائیں بازو کے مخالف مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد 140 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے ان مظاہرین کو 300,000 فلسطینی حامی مارچ کرنے والوں سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

سابق وزیراعظم کیمرون کی حکومت میں اچانک واپسی

چونکہ سنک نے اپنی کابینہ میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کیں تو سابق برطانوی رہنما ڈیوڈ کیمرون کو ملک کا نیا سیکرٹری خارجہ نامزد کیا گیا۔

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون 17 مئی 2017 کو لاس ویگاس، نیواڈا میں سالٹ کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

57 سالہ کیمرون نے 2010 سے 2016 تک برطانوی وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے بریگزٹ ریفرنڈم کے نتائج کے بعد استعفیٰ دے دیا جب برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے ووٹ دیا۔

اپنی یادداشتیں لکھنے اور کاروبار میں شمولیت میں گذشتہ سات سال گذارنے کے بعد برطانوی سیاست کی صفِ اول میں ان کی غیر متوقع واپسی ہوئی۔ ان کے کاروبار میں ایک فنانس فرم گرینسل کیپیٹل بھی شامل ہے جو بعد میں ختم ہو گئی۔

گرینسل کے خاتمے سے اس بارے میں سوالات اٹھے کہ کس حد تک سابق رہنما اپنی حیثیت کو حکومتی پالیسی پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جب کیمرون نے 2020 میں فرم کو لابی کرنے کے لیے سینئر وزراء سے بار بار رابطہ کیا۔

سنک کے دفتر نے کہا کہ شاہ چارلس نے کیمرون کو برطانیہ کے ایوانِ بالا یعنی ہاؤس آف لارڈز میں ایک نشست دینے کی منظوری دے دی ہے جس سے وہ پارلیمنٹ کے منتخب رکن نہ ہونے کے باوجود حکومت میں بطور وزیر واپس آ سکتے ہیں۔

اپنی حیرت انگیز تقرری کے بعد ابتدائی تبصروں میں کیمرون نے امید ظاہر کی ہے کہ بطور وزیرِ اعظم ان کا تجربہ موجودہ بین الاقوامی چیلنجوں سے نمٹنے میں ان کی مدد کرے گا۔

کیمرون نے ایکس پلیٹ فارم پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا، "ہمیں بین الاقوامی چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں یوکرین کی جنگ اور شرقِ اوسط کا بحران شامل ہے۔ گہری عالمی تبدیلی کے اس وقت کے دوران اپنے اتحادیوں کا ساتھ دینا، اپنی شراکت داری کو مضبوط کرنا اور اپنی آواز کی سماعت کو یقینی بنانا اس ملک کے لیے پہلے کبھی شاید ہی اتنا اہم رہا ہو۔"

"جبکہ میں گذشتہ سات سالوں سے صفِ اول کی سیاست سے باہر ہوں مگر امید ہے کہ ان اہم چیلنجوں سے نمٹنے میں وزیر اعظم کی مدد کرنے کے لیے میرا تجربہ - 11 سال بطور کنزرویٹو رہنما اور چھے سال بطور وزیرِ اعظم – معاون ہو گا۔"

کیمرون نے یہ بھی کہا سنک ایک "مضبوط اور قابل وزیرِ اعظم ہیں جو مشکل وقت میں مثالی قیادت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔"

ہنٹ وزیرِ خزانہ کی حیثیت سے برقرار

برطانیہ کے وزیرِ خزانہ جیریمی ہنٹ 17 نومبر 2022 کو لندن، برطانیہ میں ڈاؤننگ سٹریٹ موجود ہیں۔ (رائٹرز)
برطانیہ کے وزیرِ خزانہ جیریمی ہنٹ 17 نومبر 2022 کو لندن، برطانیہ میں ڈاؤننگ سٹریٹ موجود ہیں۔ (رائٹرز)

جیسا کہ برطانوی رہنما نے اپنے وزراء کی اعلیٰ ٹیم کو تبدیل کیا تو وزیرِ اعظم کے دفتر نے تصدیق کی کہ جیریمی ہنٹ وزیرِ خزانہ کے طور پر کام جاری رکھیں گے جو اکتوبر 2022 سے یہ عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں