فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی بمباری میں غزہ کے مرکزی ہسپتالوں کا ’تحفظ‘ کیا جانا چاہیے: صدر بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اسرائیل الشفا ہسپتال میں ’کم دخل اندازی‘ کرے گا جس کے طبی عملے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری اور سنائپرز نے بار بار اس ہسپتال کو نشانہ بنایا ہے۔

بائیڈن نے اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا کہ ’میری امید اور توقع یہ ہے کہ ہسپتالوں کے حوالے سے کم دخل اندازی ہوگی اور ہم اسرائیلیوں کے ساتھ اس حوالے سے رابطے میں رہیں گے۔‘

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’اس کے علاوہ قیدیوں کی رہائی کے مسٔلے سے نمٹنے کے لیے (جنگ میں) وقفے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قطری حکام کے ساتھ بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ لہذا میں کسی حد تک پر امید ہوں لیکن ہسپتالوں کی حفاظت بہرحال ہونی چاہیے۔‘

صدر بائیڈن کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب طبی ماہرین نے ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں سمیت مریضوں کی بڑھتی ہوئی اموات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ شہر کے مرکزی الشفا ہسپتال کے باہر پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال کے نیچے سرنگوں میں حماس کے جنگجوؤں کا ہیڈکوارٹر ہے جو مریضوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ حماس اس اسرائیلی دعوے کی تردید کرتی ہے۔

فلسطینی طبی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت میں 11 ہزار سے زائد افراد کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے تقریباً 40 فیصد بچے ہیں۔

گنجان آباد بحیرہ روم کے ساحل پر واقع اس پٹی کا تقریباً دو تہائی حصہ اسرائیل کی فوجی مہم سے بے گھر ہو گیا ہے جس میں اس نے غزہ کے شمالی نصف حصے کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں