مشرق وسطیٰ

اسرائیلی وزیر کا غزہ سے فلسطینی نقل مکانی کو رضاکارانہ قرار دینا قابل مذمت ہے: برغوثی

’’اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے لیے بدقسمتی سے امریکہ اور مغربی ملک مدد کر رہے ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی سیاسی جماعت 'فلسطینی نیشنل انیشٹیو' کے رہنما مصطفیٰ برغوثی نے اسرائیل وزیر خزانہ بیزالیل سموتریش کے اس بیان ’’فلسطینیوں کی غزہ سے رضا کارانہ ہجرت اسرائیل حماس جنگ کا انسانی بنیادوں پر نکلنے والا حل ہے‘‘ کی مذمت کی ہے۔

مصطفیٰ برغوثی 'پی این آئی' کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے کہا ' انتہائی دائیں بازو کے اس وزیر کا یہ بیان اسرائیلی حکومت کی نیت اور پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ ' العربیہ' سے بات کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا 'سموتریش کا یہ بیان حیران کن نہیں ہے لیکن بد قسمتی سے دنیا اسرائیل کے اس خوفناک منصوبے کو توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل صفائی کر رہا ہے۔ اسی لیے غزہ کی شہری آبادی پر مسلسل بمباری کی جارہی ہے ۔'

اسرائیلی وزیر نے اسرائیلی حکومت کی نیت اور پالیسی ظاہر کر دی ہے، خود نیتن یاہو نے اس جنگ کے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ غزہ والوں کواپنے گھر چھوڑنا پڑیں گے۔

بین الاقوامی قانون کی نظر میں نسلی صفائی جنگی جرم ہے لیکن جس طرح شہری آبادی پر بمباری کر کے اس جرم کا ارتکاب اسرائیل نے کیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ہے۔ یاد رہے اسرائیلی وزیر نے یہ بیان وال سٹریٹ جرنل میں پیر کے روز شائع شدہ ایک تبصرے کے جواب میں دیا تھا ۔

سموتریش نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فیس بک پر لکھا میں اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن رام بین باراک اور ڈینی ڈانون کے 'انیشٹو' کا میں خیر مقدم کرتا ہوں جو انہوں نے عربوں کی رضا کارانہ نقل مکانی کے سلسلے میں لیا ہے۔ کہ انہیں دوسرے ملکوں میں بسایا جائے، یہ غزہ کے لوگوں کے لیے درست انسانی بنیادوں پر مسئلے کا حل ہے کہ وہ پورے علاقے میں منتقل ہو جائیں۔'

ان عرب پناہ گزینوں کا استقبال دوسرے ملک یقیناً اپنے بہترین مفاد میں چاہیں گے۔ وہ ان کی مدد کریں گے عالمی برادری کی انہیں فراخدلانہ مالی معاونت ملے گی۔ اسی سے یہودیوں اور عربوں کی تکالیف کا خاتمہ ہو گا۔'

سموتریش کو ماہ مارچ میں بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے کہا تھا ' فلسطینی عوام تو محض ایک سو سال کی ایجاد ہیں، اس پر بھی سموتریش کو نسل پرست کہا گیا کہا گیا کہ اسرائیلی ریاست فلسطینیوں کے لیے اصل چہرہ سامنے آ گیا۔'

برغوثی نے کہا مغرب کے کچھ ملک اور بطور خاص امریکہ اسرائیل کے ان جنگی جرائم کو تحفظ دے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ دنیا میں بدترین جارحیت ہے کہ نو آبادیاتی آباد کار پچھلی دو صدیوں سے جس کو چاہتے ہیں اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ '

'پی این آئی' کے رہنما نے کہا 'یہ ناقابل قبول ہے کہ ہم نہیں سنتے کہ کسی مغربی ملک کے رہنما نے فوری طور پر سموتریش کو ردعمل دیا ہو اور کہا ہو کہ یہ 21 ویں صدی ہے اس میں نسلی تطہیر قبو ل نہیں ۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں