امریکی صدر جو بائیڈن کے خلاف غزہ پر 'اسرائیل کی نسل کشی میں ملوث ہونے' کا مقدمہ دائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ میں انسانی حقوق کے ایک گروپ نے صدر جو بائیڈن اور ان کی کابینہ کے دو ارکان کے خلاف غزہ میں "اسرائیلی حکومت کی نسل کشی کو روکنے میں ناکامی اور اس میں ملوث ہونے" پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

شہری آزادیوں کے گروپ کی ویب سائٹ پر ایک بیان کے مطابق نیویارک میں قائم مرکز برائے آئینی حقوق (سی سی آر) نے فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں اور غزہ اور امریکا کے فلسطینیوں کی جانب سے تینوں اہلکاروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔

بائیڈن، سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن، اور سیکریٹری دفاع لائڈ آسٹن کے خلاف وفاقی شکایت میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے "غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہے ہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کو غیر مشروط فوجی اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھ کر، فوجی حکمت عملی پر قریبی رابطہ کاری، اور اسرائیل کی بے دریغ اور بے مثال بمباری مہم اور غزہ کا مکمل محاصرہ روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششوں کو کمزور کر کے سنگین جرائم کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔"

وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں کم از کم 11,100 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں 4,600 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں اور 28,000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اپنی شکایت کے تعارف میں سی سی آر نے کہا، "اسرائیلی حکومت کے متعدد رہنماؤں نے واضح نسل کشی کے ارادوں کا اظہار کیا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا ہے۔"

"اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سمیت شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی ہے اور فلسطینیوں کو پانی، خوراک، بجلی، ایندھن اور ادویات سمیت انسانی زندگی کے لیے ہر ضروری چیز سے محروم کر دیا ہے۔"

بدھ 8 نومبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے بوریج میں صلاح الدین اسٹریٹ پر فلسطینی جنوبی غزہ کی پٹی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ (اے پی)
بدھ 8 نومبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے بوریج میں صلاح الدین اسٹریٹ پر فلسطینی جنوبی غزہ کی پٹی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ (اے پی)

گروپ نے بات کو جاری رکھا۔ "ارادوں کے بیانات" کے علاوہ "اجتماعی قتل، سنگین جسمانی اور ذہنی ایذا رسانی، اور مکمل محاصرہ اور بندش جس سے گروپ کی جسمانی تباہی کے حالات پیدا ہو جائیں - نسل کشی کے ایک آشکار ہوتے ہوئے جرم کے ثبوت کو ظاہر کرتے ہیں۔"

سی سی آر نے نسل کشی اور ہولوکاسٹ کے کئی سرکردہ قانونی محققین و مؤرخین بشمول ولیم شاباس کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے اسرائیلی حکومت کی ہرزہ سرائی اور فوجی ردِعمل کو نسل کشی کی علامات کے طور پر شناخت کیا۔

7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے حملے کے بعد بائیڈن نے اسرائیلی حکومت کے لیے اپنی "غیر متزلزل" حمایت کا اظہار کیا۔

 یکم نومبر 2023 کو شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی حملوں کے ایک دن بعد فلسطینی ممکنہ ہلاکتوں کے لیے ملبے کی تلاشی لے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یکم نومبر 2023 کو شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی حملوں کے ایک دن بعد فلسطینی ممکنہ ہلاکتوں کے لیے ملبے کی تلاشی لے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سی سی آر نے کہا۔ "صدر، بلنکن، اور لائڈ نے تب سے "اسرائیل کو 14.1 بلین ڈالر کا اضافی فوجی ہارڈویئر فراہم کرنے، طیارہ بردار بحری جنگی گروپوں کی تعیناتی، اور 'اسرائیل کے دفاع میں مدد' کے لیے خطے میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے کانگریس سے منظوری طلب کی ہے۔"

اسرائیل کے فوجی اور سیاسی معاونت کے بنیادی فراہم کنندہ کی حیثیت سے اس کے اقدامات پر اثر انداز ہونے کی "اہم صلاحیت" رکھنے کے باوجود گروپ نے کہا، "غزہ میں نسل کشی کے سنگین خطرے کے بارے میں جاننے کے بعد سے امریکہ جرم کو روکنے کے لیے اسرائیلی حکومت پر اپنا کافی اثر و رسوخ استعمال کرنے کا پابند ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں