حماس حملے میں لاپتہ اسرائیلی-کینیڈین امن کارکن ویوین سلور کی ہلاکت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ٹورنٹو میں ایک اسرائیلی سفارت کار نے پیر کو بتایا کہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سے لاپتہ ہونے والی 74 سالہ اسرائیلی-کینیڈین امن کارکن ویوین سلور کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی۔

اسرائیلی قونصل جنرل ادیت شامیر نے ایکس پر لکھا۔ "افسوسناک خبر: کینیڈین-اسرائیلی امن کارکن ویوین سلور کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے جن کے بارے میں پہلے خیال تھا کہ انہیں یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ انہیں حماس نے کبتز بیری میں قتل کر دیا۔"

کینیڈا کی وزیرِ خارجہ میلانیا جولی نے سلور کو "قابلِ فخر اسرائیلی-کینیڈین اور تاحیات امن کی حامی" قرار دیتے ہوئے ایکس پر لکھا، "کینیڈا ان کی وفات پر سوگ میں ہے۔"

تل ابیب میں رہائش پذیر سلور کے بیٹے یوناتن زیگن نے گذشتہ ماہ اے ایف پی کو بتایا کہ حماس کے حملے کے دن جب صبح 11:00 بجے (0800 جی ایم ٹی) پر فائرنگ شروع ہوئی تو وہ اپنی والدہ کے ساتھ فون پر گفتگو کر رہے تھے۔

پھر انہوں نے بیٹے کو پیغام دیا کہ مسلح افراد بیری کی چھوٹی سی کمیونٹی میں ان کے گھر میں موجود تھے اور اس وحشیانہ حملے میں 100 سے زائد مکین اپنی جان سے محروم ہو گئے۔

بیٹے کو ملنے والا یہ ان کا آخری پیغام تھا۔

زیگن نے اس وقت کہا۔ "وہ انصاف کے لیے لڑنے والی اور ایک عظیم ماں اور دادی ہیں۔"

فلسطینیوں کے لیے امن کی وکالت کرنے والی ایک نسائیت پرست کارکن سلور نے غزہ کے رہائشیوں کے لیے امدادی پروگرام ترتیب دیے تھے اور انھیں اسرائیل میں طبی علاج کروانے میں مدد کی تھی۔

اپنے امن کے کام کے لیے انہیں بے شمار انعامات ملے اور 2014 میں انہوں نے وومن ویج پیس گروپ نامی ایک امن تحریک کی تشکیل میں مدد کی جس کی رکنیت 45,000 سے زیادہ ہو چکی ہے۔

اسرائیل کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق حماس کے حملے میں ایک اندازے کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

غزہ میں حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ اسرائیل کی بڑے پیمانے پر انتقامی مہم میں 11,240 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 4,630 بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں