کامسٹیک کا پناہ گزین سائنسدانوں کے لیے فیلوشپ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) کی طرف سے قائم کی گئی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی اور تکنیکی تعاون (COMSTECH) نے ’سائنس ان ایکسائل فیلوشپس پروگرام ‘برائے بے گھر اور پناہ گزین اسکالرز اور سائنسدانوں کے پہلے مرحلے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔

واضح رہے کہ کامسٹیک کے قیام کا اعلان سلامی تعاون کی تنظیم نے جنوری 1981 میں مکہ مکرمہ، سعودی عرب میں منعقدہ تیسرے اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر کیا تھا۔ پاکستان کے صدر کامسٹیک کے چیئرمین مقرر کئے گئے ہیں۔ اس کا بنیادی مینڈیٹ اسلامی تعاون کی تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو مضبوط کرنا اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں تربیت کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ او آئی سی کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنا ہے۔

یہ ادارہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلم ممالک کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے پروگرام اور تجاویز بھی پیش کرتاہے۔ اس اداراے کا بنیادی مقصد سماجی و اقتصادی ترقی اور تیز رفتار صنعت کاری میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ سائنسی ثقافت کو مقبول بنانا بھی ہے۔

پاکستان کی سرکاری اے پی پی نیوز ایجنسی نے بتایا کہ فیلوشپ پروگرام کا مقصد افغانستان، فلسطین، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے بے گھر اور پناہ گزین سائنسدانوں کی مدد کرنا ہے۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 15 دسمبر ہے اور اسکالرز کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسیلنس (CCoE) کے اداروں اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی پروگرامز کا حصہ بن سکتے ہیں۔ دس ریسرچ فیلو شپس اور 10 پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو شپس سال 2024 کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔

اے پی پی کے مطابق مسلح تنازعات، خانہ جنگی، سیاسی عدم استحکام، اور ظلم و ستم لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے ممالک یا اپنی سرحدوں کے اندر پناہ لینے پر مجبور کرتے ہیں۔ بہت سے مہاجرین بے گھر ہونے سے پہلے اپنے آبائی ممالک میں تحقیق یا اعلیٰ تعلیم میں شامل تھے لیکن تنازعہ کے شروع ہونے سے ان کے تحقیقی منصوبوں، تعلیمی کیریئر اور سائنسی شراکت میں خلل پڑا۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئےکامسٹیک نے بے گھر اور پناہ گزین سائنسدانوں کی مدد کے لیے پہل کی ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے تعلیم اور تحقیق کو آگے بڑھائیں۔

اس فیلوشپس کی مدت چھ ماہ ہے۔ تحقیق کے شعبوں میں زرعی علوم، ساختی، سیل اور سالماتی حیاتیات، حیاتیاتی نظام اور حیاتیات، نیورو سائنس، کیمیکل سائنس، انجینئرنگ، فلکیات، خلائی اور زمینی سائنس، ریاضی اور طبیعیات شامل ہیں جبکہ تدریس کی زبان انگریزی ہے۔

اے پی پی نے کہاکہ اس پروگرام کیلئے درخواست دینے کیلئے اہم افراد میں بے گھر یا پناہ گزین سکالرز اور سائنس دان جو کسی بھی او آئی سی رکن ریاست میں رہ رہے ہیں اور متعلقہ ملک میں رہنے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں یا پاکستان کا سفر کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ پاکستان سے باہر سے سفر کرنے والے فیلوشپ کی پوری مدت کے لیے ایک بار کی اکانومی کلاس کے واپسی کے ہوائی ٹکٹ کے اہل ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں