اسرائیلی حمایت میں مظاہرے کے اگلے روز اسرائیلی جنگ کے خلاف مظاہرین کا احتجاج

پولیس نے مظاہرین کو ڈیموکریٹک پارٹی کی نیشنل ہیڈ کوارٹر میں داخلے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نیشنل ہیڈ کوارٹرز کے باہر اسرائیلی بمباری کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں اور پولیس کے مابین تصادم کا ماحول پیدا ہو گیا۔ پولیس نے گرفتاریاں شروع کر دیں۔ یہ واشنگٹن میں اسرائیل حماس جنگ کے سلسلے میں مسلسل دوسرے روز مظاہرہ تھا۔

ایک روز قبل امریکہ بھر سے آئے یہودیوں نے اسرائیل کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔ اس مظاہرے میں امریکی کانگریس کے ارکان نے بھی شرکت کی جبکہ پولیس کی طرف سے مکمل تعاون و تحفظ کا اہتمام کیا گیا تاکہ مظاہرین کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پورے امریکہ سے آئے ہوئے یہودی مظاہرین اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے اور جوبائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل جنگ بارے پالیسی کی حمایت کے لیے جمع ہوئے تھے۔

اب بدھ کے روز واشنگٹن میں اسرائیلی بمباری کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں جمع آواز بلند کر رہے تھے۔ مظاہرین ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کے باہر اسی مقصد کے لیے جمع ہو رہے تھے، تاہم انہیں پولیس کو روکنا پڑ گیا۔

پولیس نے اپنے 'ایکس ' پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے ' ہمارے حکام اس کوشش میں ہیں کہ غیر قانونی اور پرتشدد انداز میں احتجاج کرنے والے 150 کو واپس دھکیلنے کی کوشش میں ہیں۔' بیان میں پولیس کی طرف سے گرفتاریاں کرنے کا بھی بتایا گیا ہے۔

مظاہرین غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس نے اس موقع پر موجود ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے ممبر کانگریس ارکان اور پارٹی ہیڈ کوارٹر کے تحفظ کے لیے لوگوں کو عمارتوں کے اندر رہنے کے لیے کہا۔

ان مظاہرین کو پولیس نے پر تشدد ہونے پر اور عمارت میں گھسنے پر زبردستی نکال باہر کیا۔ اس کے لیے پولیس نے کالی مرچوں کا بھی استعمال کیا۔

ایک ڈیموکریٹ رہنما شرمین نے کہا ہم پولیس کے شکر گزار ہیں نے انہیں روک دیا اور میری میرے ساتھیوں کے حفاظت کا اہتمام کیا۔ '

ایک اور قانون ساز سین کاسٹین نے کہا ' عمارت کو آنے والے تمام راستوں کو بلاک کر دیا گیا تھا کہ نہیں معلوم تھا کہ ان مطاہرین کی نیت کیا ہے۔ '

خیال رہے وائٹ ہاوس کے اعلیٰ حکام کے علاوہ کانگریس اور ڈیموکریٹک پارٹی میں جوبائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل پالیسی پر ایک تقسیم پائی جاتی ہے۔ بہت سے ڈیموکریٹ اور ڈیموکریٹ ارکان کانگریس اسرائیل سے متعلق پالیسی کو اپنی پارٹی کی سوچ اور شناخت سے متصادم قرار دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں